30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام بنانا گناہ ، اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ، اس میں سے کسی پرہیز گار جو سنّی صحیح العقیدہ ہو وضو غسل ٹھیك کرتا ہو نماز صحیح پڑھتا ہو امام بنائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ۸۱۴: ازضلع سیونی چھپارہ محلہ قاضی ممالك متوسط مسئولہ محمد ظہور الحسن صاحب ۲۳محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مندرجہ ذیل حدیث شریف کو جھوٹا کہتے ہیں وہ یہ ہے:
|
عن عمرو بن سلمۃ قال لماکانت وقعۃ الفتح بادر کل قوم باسلامھم وبدرابی قومی باسلامھم فلما قدم قال جئتکم واﷲ من عندالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حقا فقال صلواصلاۃ کذا فی حین کذا وصلاۃ کذافی حین کذافاذاحضرت الصلاۃ فلیؤذن احدکم ویؤمکم اکثرکم قرانا فنظر وافلم یکن احدااکثر قرانامنی لما کنت اتلقی من الرکبان فقد مونی بین ایدیھم وانا ابن ست اوسبع سنین وکانت علی بردۃ کنت اذا سجدت تقصلت عنی فقالت امرأۃ من الحی الا تغطوا عنااست قارئکم فاشتروافقطعو ا لی قمیصافمافرحت بشیئ فرحی بذلك القمیص [1]رواہ البخاری وفی روایۃ النسائی کنت اومھم وانا ابن ثمان سنین [2]وفی روایۃ لابی داؤد وانا ابن سبع سنین اوثمان سنین [3] وفی روایۃ لاحمد وابی داؤد فما شھدت مجمعا من جرم الاکنت امامھم الی یوم ھذا[4]۔ |
عمرو بن سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ جب مکّہ فتح ہوا تو ہر ایك قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی اورمیرے والد نے اپنی قوم سے اسلام لانے میں جلدی کی پس جب وہ آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی کی خدمت سے واپس آئے تو انھوں نے فرمایا واﷲ میں تمہارے پاس اس سچّے نبی اورحق کے پاس سے آیاہوں پس تم لوگ نماز ایسے ایسے وقت میں پڑھا کرو پس جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایك اذان کہے اور تم میں سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تمھاری امامت کرائے پس انھوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن خواں کسی کو نہ پایا کیونکہ میں سواروں سے( جو ہمارے پاس سے گزرتے تھے ) سیکھ لیا کرتا تھا انہوں نے مجھ کو اپنا امام بنالیا اور میں چھوٹا سات برس کا لڑکا تھا اور مجھ پر ایك چادر ہوتی تھی جب میں سجدہ کرتا تھا تو وہ چادر مجھ سے سکڑ جاتی تھی پس قبیلہ کی ایك عورت نے کہا تم ہم سے اپنے قاری کے سرین نہیں ڈھانکتے پس انھوں نے کپڑا خریدا اور انھوں نے میرے لئے کُرتا بنایا پس میں جیسا اُس کپڑے سے خوش ہوا اور کسی چیز سے خوش نہیں ہوا بخاری ونسائی کی روایت بھی ہے کہ میں ان کی امامت کراتا تھا اور میں آٹھ برس کا تھا ۔اورابی داؤد کی روایت میں زیادہ ہے کہ سات یا آٹھ برس کا لڑکا تھا اور احمد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع