30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دین نہیں اس کی نماز نہیں۔ت) نہ تو اُس کی اپنی ہوسکتی ہے نہ اُس کے پیچھے کسی کی اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو یا اور کسی قسم بدمذہب ہو سنّی ہو تو سنّی ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٢) دیوبندیہ کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق فرمایا کہ وُہ مرتد ہیں۔اور شفائے قاضی عیاض وبزازیہ و مجمع الانہر ودُرمختار وغیرہا کے حوالے سے فرمایا من شك فہ کفرہ وعذابہ فقد کفر[1] (جس نے اس کے کفر وعذاب میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ت)
جو اُن کے اقوال پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شك کرے وہ بھی کافرا ور ان کی حالت کفر وضلال اور ان کے کفری وملعون اقوال طشت ازبام ہوگئے ہر شخص کہ نرا جنگلی نہ ہو اُن کی حالت سے آگاہ ہے پھر انہیں عالم ِدین جانے تو ضرور متہم ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٣) ابھی گزرا کہ دیو بندیہ کے کافر ہونے میں جو شك کرے وُہ بھی کافر ہے صرف انھیں بُرا جاننا کافی نہیں تو جو انھیں قابل امامت سمجھتا ہے اُس کے پیچھے نماز بیشك باطل محض ہے فانہ منھم (کیونکہ وہ بھی انہی میں سے ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(٤) اہلسنت پر فرض ہے کہ اپنا امام سنّی صحیح العقیدہ جمعہ و عیدین کے لئے مقرر کریں وہابی کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور شہروں میں جمعہ کا ترك حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٥) اس کا جواب انھیں نمبروں میں گزرا۔
(٦) ایسی صورت میں جمعہ قائم نہیں ہوسکتا کہ اس کے لئے امام کے سوا کم از کم تین مقتدی درکار ہیں اور یہاں ایك ہی ہے باقی تین نہیں اینٹ پتھر کی مورتیں ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(٧) بار ہا بتا دیا گیا کہ انکے پیچھے نماز باطل اور خود ان کی نماز باطل وہ نماز ہی نہیں لغو حرکات ہیں مسلمان اُسی وقت اپنی جماعت قائم کریں اور جماعت نہ ملے تو اپنی تنہا پڑھے۔
(٨) نابینا کی امامت جائزہے ،ہاںاگر اُس سے افضل موجود ہو تو خلاف ِ اولیٰ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
(٩) کتنی بار کہا جائے کہ کسی نماز میں اصلًاجائز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٨٠٨: از شہرڈونگر پور ملك میوڑاراجپوتانہ برمکان جمعدار سکندر خان مسئولہ عبدالرؤف خان ١٣ محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص نجومی یا رمّال یافال دیکھنے والا اُس پر اُجرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع