30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(١) وہابی امام کے پیچھے اہلسنت وجماعت کی اقتداء ِ نماز خواہ پنجگانہ یا تراویح یا جمعہ یا عیدین یا نوافل یا نماز جنازہ میں درست حکم ہے یا کیاحکم ہے؟
(٢) زید مولویانِ فرقہ وہابیہ دیوبند کو عالم ِ دین سمجھتا ہے اور اُن کی تعظیم و تکریم بھی کرتا ہے لیکن خود عالم نہیں اب زید مذکوراہلسنت وجماعت کی امامت کرسکتا ہے یا نہیں اور اُس کی امامت سے نماز سنّی کی صحیح ہے یا کیا؟
(٣)زید فرقہ وہابیہ دیوبندیہ کو بُرا سمجھتا ہے اور کہتا ہے لیکن اُن کی امامت سے نماز بلا تکلف پڑھتا ہے اور عمروسُنی حنفی ہے اور وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے احتزار کرتا ہے بخیال نہ ہونے نماز جائز کے ،لہذا زید مذکور کی امامت سے عمرو مذکورکی نماز صحیح ہوگی یا نہیںاور کیوں ؟
(٤)امامِ جمعہ وہابی عقائد کا ہے اور صرف ایك ہی مسجد میں جمعہ ہوتا ہے آیا سنّی اُس کی امامت میں نمازِ جمعہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو کیا نمازِ ظہر ادا کرے؟
(٥) اگر امامِ جمعہ نمبران(٢)یا (٣) مذکورہ میں سے کوئی ہو تو اہل سنّت وجماعت اُس کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں اورنماز صحیح ہوگی یا کیا ۔نیز نمازِ عیدین کے بارے میں ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
(٦) اما م سنّی المذہب ہے اور چار مقتدی جن میں سے ایك سنّی کامل ہے باقی تین صورتہائے متذکرہ نمبر (٢) اور (٣) کے ہیں ایسی حالت میں جمعہ قائم کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(٧) نمازِ مغرب یا کسی وقت کی بہ جماعت نماز ساتھ امام صورتہائے متذکرہ ان (١) یا (٢) یا (٣) کے ہورہی ہے توکیا سنّی المذہب شریك جماعت ہوسکتا ہے یا نہیں اور تنہا پڑھنے کی حالت میں نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟
(٨) حافظ نا بینا کی امامت جائز ہے یا نہیں نماز پنجگانہ یا تراویح میں بشرطیکہ سوائے اس کے اورکوئی حافظِ قرآن موجود نہیں ہے البتہ ناظرہ خواں چند ہیں؟
(٩) صورت ہائے مذکورۃ الصدر نمبران (٢) یا (٣) میں سے اگر امام ہوتونماز تراویح میںاُس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
(١) وہابی کے پیچھے کوئی نماز فرض خواہ نفل کسی کی نہیں ہوسکتی نہ اُ س کے پڑھنے سے نماز جنازہ ادا پو اگرچہ نمازِ جنارہ میں جماعت و امامت شرط نہیں ولہذا اگر عورت امام اور مقتدی ہے نماز جنازہ کا فرض ادا ہو جائے گاکہ اگ رچہ مقتدیوں کی اُس کے پیچھے نہ ہوئی خود اُس کی ہوگئی ،اور اسی قدر فرض کفایہ کی ادا کافی ہے مگر وہابی تو نماز خود باطل ہے لانہ لا دین لہ ولا صلٰوۃ لن لا دین لہ(کیونکہ اس کا تو کوئی دین نہیں اور جس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع