30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
(١) جو مدرسہ خلافِ مذہب اہلسنت ہو اسکے طلباء کو امام نہیں بنا سکتے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) امام ایسا شخص کیا جائے جس کی طہارت صحیح ہو قرأت صحیح ہو سنّی صحیح العقیدہ ہو فاسق نہ ہو اس میں کوئی بات نفرت مقتدیان کی نہ ہو مسائلِ نماز و طہارت سے آگاہ ہو واﷲ تعالٰی اعلم
(٣) جوشخص شرائط ِمذکورہ کا جامع ہے اور وہ امام کیا جائے اگر چہ وہ اپنے آپ کو نااہل کہے، اور جوواقعی نااہل ہے وہ امام نہیں ہوسکتا اگرچہ سب کی رائے ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٩٨: مسئولہ مسلمانان شہر کہنہ روہیلی ٹولہ ١٢ ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کُرتا اس طرح کا پہنا کرتا ہے جس کی آستینیں کہنیوں کے برابر بلکہ کچھ اونچی ہوتی ہیں یعنی کہنیاں کھلی رہتی ہیں ایسا کُرتا پہنے ہُوئے پر زید کوامام بنایا جاسکتاہے یا نہیں اور کوئی نقص اس کے پیچھے نماز پڑھنے میںتو نہیں آتا؟ زید کو اس قدر مقدور بھی ہے کہ وہ پوری آستینوں کے کُرتے بنوا کر پہن سکتا ہے اورامامت کرنے کے وقت انگر کھا وغیرہا نہیں پہنتا، علاوہ اس کے زید کو علم بھی اچھا ہے اور ہر ایك مسائل سے واقفیت رکھتا ہے۔
الجواب:
بیانِ مسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کُرتے ایسے ہی آدھے آستین کے بناتا ہے اور نماز کے وقت انگرکھا پہن سکتا ہے مگر نہیں پہنتا اور بازار کو انگرکھا پہن کر جاتا ہے ،اس صورت میں زید کے پیچھے نماز اگر چہ ہوجاتی ہے مگر کراہت سے خالی نہیں فانہ اِذَنْ من ثیاب مھنۃ والصلاۃ فیھا مکروھۃ (کیونکہ یہ اس کے کام کاج والے کپڑے ہوں گے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ت) جب وہ ذی علم ہے اور اسے سمجھایا جائے کہ دربار الہٰی بازار سے زیادہ قابلِ تعظیم و تذلّل ہے قال اﷲ تعالٰی زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ [1]وقال ابن عمر اﷲ احق تتزین لہ(اﷲ تعالٰی کا ارشاد گرامی ہے: جب تم نماز کے لئے مسجد میں جاؤ اپنی زینت اختیار کرو ۔اور حضرت ابن عمر نے فرمایا: اﷲ تعالٰی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ تو اس کی بارگاہ میں زینت اختیار کرے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٩٩تا ٨٠٧: ازقصبہ عمری ڈاك خانہ خاص ضلع مراد آباد مسئولہ غلام مصطفی اسرار الحق انصاری قادری ١٢ محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت ہائے مفصلی ذیل میں کہ:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع