30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٢) سنّی امام کے پیچھے نمازہوجائےگی مگراس مسجد میں پڑھنے سے مسجد کا ثواب نہ ملے گا کہ شرعًامسجد نہیں اور بلاعذر ِشرعی ترك مسجد گناہ ہے،حدیث میں ہے:
|
لاصلاۃ لجار المسجد الّا فی المسجد ١[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم |
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہوسکتی ہے۔(ت) |
(٣) جماعت میں غیر مقلد کے شریك ہونے ضرور نماز میں نقص پیدا ہوتا ہے اول تو اُس کے آمین بالجہر سے طبیعت مشوش ہوگی ،اور دوسرا عظیم نقص یہ ہے کہ اس کی شرکت سے صف قطع ہوگی کہ اس کی نماز نمازنہیں ایك بے نمازی شخص صف میں کھڑا ہوگا اور یہ صف کا قطع ہے اور صف کا قطع ناجائز ہے صحیح حدیث میں فرمایا:
|
من قطع صفا قطعہ اﷲ [2]۔ |
جس نے صف قطع کی اُسے اﷲ تعالٰی (اپنی رحمت سے)قطع کردے(ت) |
مع ہذا بد مذہبوں کےساتھ نماز پڑھنے سے بھی حدیث میں منع فرمایا ہے : لا تصلوا معھم [3](اُن کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٧٩٥ تا ٧٩٧: از شہر محلہ شاہ دانا مرسلہ جناب میر فداحسین صاحب مورخہ ٢ ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(١) نماز جماعت سُنّی حنفی
اشخاص کی طالب علمان مدرسہ مداری دروازہ وسرائے خامن کے پیچھے ہوگی یا نہیں۔
(٢) اگر کسی مسجد میں پیش امام مقرر نہ ہو تو حاضرین مسجد کسی شخص کو اپنے میں سے
منتخب کریں تو اس میں کس کس احترام والتزام اور کس کس بات کی ضرورت ہے ؟
(٣) امام ہر طبقہ کے لوگوں میں سے جو کہ اس وقت موجود ہوں کثرت رائے سے منتخب ہوسکتا ہے باوجود یکہ وہ منتخب شدہ شخص اپنے آپ کو امامت کا اہل نہ سمجھتا ہو مگر اجماع اس کی امامت پر ہوجائے تو وہ امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع