30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیچھے نماز گناہ، اور اگراس کا قصور نہیںیا حدِ فسق تك نہیں یا وہ بالاعلان اس کا مرتکب نہیں تو ان پہلی دو صورتوں میں اس کے پیچھے نماز میں اس وجہ سے کوئی کراہت نہیں اور پچھلی صورت میں مکروہ تنزیہی خلافِ اولیٰ ہے باقی عاق کردینا کوئی شے نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٨٩: از راب گڈھ صدربازار بر دکان امیر بخش ٹیلر مرسلہ شیخ طالب حسین ١٤ شوال بروز پنجشنبہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ِ شرع متین اس مسئلہ میںکہ راب گڈھ میں دومسجدیں ہیں جن میں سے ایك مسجد کا متولی جو روزہ نماز کا پابند نہیں ہے اُس نے ایك پیش امام جو قوم کاصدیقی اور علم کا حافظ مولوی حکیم مقرر تھا اس کو متولی نے بلاوجہ الگ کردیا اور بجائے اس کے بلارائے مقتدیوں کے دوسرا امام جوصرف حافظ وقوم کا قصاب ہے اور ہنوزان کے یہاں پیشہ جاری ہے مقرر کردیا جس پر میں نے متولی صاحب سے پُوچھا کہ سابق پیش امام کس قصور پر علیحدہ کئے گئے تو متولیعبدالصمد صاحب نے بہت غصہ ے ساتھ جواب دیا کہ ہماری مسجد ہم جو چاہیں سو کریں مقتدی پوچھ نہیں سکتے ،ایسے امام کے پیچھے اورایسی مسجد میں نماز جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگرپہلا امام معاذاﷲ بدمذہب ہو تو اُس کا معزول کرنا اشد ضروری تھا اور اگردوسرا بدمذہب ہو تو اس کامقررکرنا حرام ہوا، اور معزول کرنا لازم ہے،یوں ہی اُن میں جو قرآن مجید غلط پڑھتا ہو یا طہارت صحیح نہ کرتا ہو اُس کا معزول کرنا فرض ہے، ایك ہو یا دونوں،اور اگرصحت مذہب وقرأت وطہارت میں بقدرجوازِ نماز ہیں اور امام وظیفہ پاتا ہے تو بلا قصور پہلے کو معزول کرنا گناہ ہوا کہ بلا وجہ ایذائے مسلم کہ لایعزل صاحب وظیفۃ بغیرجنحۃ [1]( کسی صاحب وظیفہ کو بغیر کسی گناہ کے معزول نہیں کیاجاسکتا۔ت)اور متولی کا کہنا کہ مسجد ہماری ہے ہم جو چاہیں کریں محض باطل ہے،مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں
وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوۡا مَعَ اللہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾ [2] (یقینا مسجدیں اﷲ تعالٰی کی ہیں تو اﷲ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔ت) اُس میں وہی کیا جائے گا جوبحکم شرع ہے اور اس کا یہ زعم باطل ہے کہ مقتدی پُوچھ نہیں سکتے بلکہ امام ومؤذن مقرر کرنے میں متولی کا اختیار نہیں جبکہ خود بانی مسجد اس کے اقارب میں نہ ہو امام ومؤذن کے نصب میں پہلا اختیار بانی پھر اس کی اولاد واقارب کا ہے اور دوسرااختیار مقتدیوں کاہے یہ بھی جبکہ جس کو بانی مقرر کرنا چاہتا ہے اور جسے مقتدی چاہتے ہیں دونوں یکساں ہوں، اور اگر جسے یہ چاہتے ہیں وہی شرعًا اولیٰ ہے تو انھیں کا اختیار مانا جائے گا متولی اس بارے میں کوئی چیز نہیں۔دُرمختار (میں ہے):
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع