30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرأت وطہارت وغیرہا میں قابل ہو ،ہاں اگر عوام اس کی امامت سے نفرت کریں اور یہ امر باعثِ قلتِ جماعت ہو تو اسے امام نہ کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٧٨٧: از کلکتہ لورچت پور روڈ نمبر ١٢٥ مرسلہ حاجی جان محمد صاحب ١٤رمضان ١٣٣٨ھ
(١) ایك مسجد کے متولیوں نے زید کو پچاس روپے ماہوار تین سال کے لئے ملازم رکھا یہ شرط تھی کہ ہم تین سال بعد معزول کرسکتے ہیں اسے امام نے بذریعہ تحریری اقرار نامہ کے منظور کرکے اپنے دستخط کردئے ۔
(٢) باوجود متولیوں کے منع کرنے اورباضابطہ روکنے کے جب تك ہم کو کسی واعظ یا لیکچرار کے خیالات اور مذہب کا علم نہ ہوجائے کسی کو مسجد میں وعظ لیکچر دینے کی اجازت نہ دو بے اطلاع متولیوں کے خود اجازت دیتا ہے چنانچہ گزشتہ فساد کے موقع پر کلکتہ میں اس نے مسجد کے اندر ہندؤوں تك کو آنے دیا۔
(٣) امام مذکور اکثر مسجد کی امامت سے غیر حاضر ہوتا اور سیر یا دعوتوں میں بے اجازت متولیوں کے چلاجاتا ہے اور متولیوں کے منع کرنے کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔
(٤) متولیوں نے بعد گزرنے معیاد اقرار نامہ اور باضابطہ تحریری اطلاع دہی کے دوسرے امام کوجو مدینہ منورہ کا ساکن اور مسجد نبوی کے امام کے خاندان سے ہے اور مسجد نبوی میں امامت کرچکا ہے اب بجائے اس کے مقرر کیا ہے وہ مزاحم ومانع ہے اور آمادہ فتنہ وفساد ہے اور متولیوں پر خلاف واقعہ توہین آمیز الزام و بہتان مشتہر کرتا آیا ایسے کو امام شرعًامتولیانِ مسجد معزول کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب:
ضرور معزول کرسکتے ہیں بلکہ ان حرکات پر اس کو معزول کرنا ہی چاہئے،لایعزل صاحب وظیفۃ الا بجنحۃ[1] وھذہ جنحۃ (صاحب وظیفہ کے مغیر معزول نہیں کیا جاسکتا اور یہ مقررہ ہے ۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٧٨٨:١٠ شوال ١٣٣٨ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں زید نے عمرو سے مثلًابوستان گلستان کے بچپن میں دویا تین سبق پڑھے تھے اب ان میں رنج ہوگیا اور عمرو نے اسے ہاک(عاق) کردیا توزید کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر شاگرد کا قصور تاحدِ فسق ہے اور بوجہ اعلان مشہور ومعروف ہے تواسے امام بنانا جائز نہیں اوراس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع