30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اطّباء نے امراض نزلہ وجریان وغیرہ میں افیون بقدر اصلاح تجویز فرمائی ہو وہ عذر شرعی کے اندر مجوز ہے یا نہیں ،اگر نہیں تو عذر شرعی کیا ہے ،دوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص بباعثِ سفر یامرض روزہ رمضان قضاکرے تو تارك صوم ہوگا یا نہیں،اور عذر شرعی اس کے لئے ہے یا نہیں،اور حافظ کلام مجید امیوں میں امامت کے لئے شرعًا افضل ہے یا نہیں،اگر کوئی شخص ایك مدّت تك مقتدی رہ کر محض حسد سے الزام لگائے ایسے کبیرہ گناہ کے تو وہ عندالشرع مستوجب کس تعزیر کا ہے۔
الجواب:
افیون اتنی کہ پینك لائے مطلقًا حرام ہے، نہ کسی مرض کے لئے حلال ہوسکتی ہے نہ کسی طبیب کی تجویز سے ۔اﷲ ورسول کے برابر حکیم کون ہے وہ منع فرماتے ہیں اُن کا منع فرمایا ہوا کسی کی تجویز سے جائز نہیں ہوسکتا ،یہ عذر شرعی ہے نہ عذر شرعی فتویٰ میں دربارہ افیون لکھا تھا بلکہ دبارہ صوم درمختار میں ہے: ظاھر المذھب المنع١[1] (یعنی حرام چیز سے علاج ظاہر مذہب پر منع ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:
|
اجاب الامام لان المرجع فیہ الاطباء وقولھم لیس بحجۃ حتی لوتعین الحرام مدفعاللھلاك یحل کالمیتۃ والخمر عند الضرورۃ ٢[2] ۔(ملخصا) |
امام اعظم نے یہ جواب دیا کہ اس میں اطبّاء کی طرف رجوع کیا جائے گا اور ان کے قول حجّت نہیں، حتّی کہ اگر کوئی حرام چیز ہلاکت کو دُور کرنے کے لئے متعین ہوجائے تو وہ حلال ہوجائے گی جیسا کہ ضرورت کے وقت مردار اور شراب(ملخصًا)۔(ت) |
ہاں سفر اور مرض جس میں روزہ کا مضر ہونا ثابت ومحقق ہو روزہ قضا کرنے کے لئے عزر شرعی ہیں،حافظ امیوں سے جب افضل ہے کہ فاسق نہ ہو اورفاسق تو عالم بھی افضل نہیں چہ جائے حافظ۔درمختار میں ہے:
|
الا ان یکون غیرالفاسق اعلم القوم فھواولی۔[3] |
مگر اس صورت میں کہ جب فاسق کے علاوہ (یعنی مذکورہ افراد میں سے) کوئی شخص قوم سے زیادہ صاحبِ علم ہو وہی امامت کے لئے اولیٰ ہوگا۔(ت) |
اگر الزام جھوٹا لگائے تو سخت کبیرہ ہے اور اس کی سخت سزا ہے اوراگر الزام سچّا ہے تو مدت تك خاموش رہنے کا اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع