30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ نمبر٧٦٤: از مقام چھاؤنی میرٹھ قصبہ کنکر کڑہ مرسلہ پیر سخاوت حسین صاحب ممبر جامع مسجد ٩ شوال ١٣٣٧
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص حافظ ِقرآن پاك ہے اور امامت جامع مسجد کی کرتا ہے اور پابند ِصوم صلوٰۃہے زوجہ اس کی پردہ نشین ہے مگر قوم سے شخص مذکور قصاب ہے کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر اس کی طہارت ونماز صحیح ہے اور مذہب کا وہابی یا دیوبندی وغیرہ بے دین وبددین نہیں سنّی صحیح العقیدہ ہے اور فاسق ومعلن نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی بیشك جائز ہے،قصاب ہونا کوئی مانع امامت نہیں،متعدد اکابرِدین نے یہ پیشہ کیا ہے، ہاں اگر جماعت والے اس سے نفرت کرتے ہوں اور اس کی امامت کے باعث جماعت میں کمی پڑے اور دوسراامام سنّی صحیح العقیدہ قابلِ امامت موجود ہوتو اس دوسرے کی امامت اولیٰ ہے۔
|
فقدکرھواخلف ابرص شاع برصہ لاجل التنفیر مع انہ لا خطیئۃ لہ فیہ۔ |
فقہا نے نفرت کے پیش نظر ایسے صاحب ِبرص کے پیچھے نماز کو مکروہ قرار دیا ہے جس کا برص مشہور (پھیل گیا) ہو، باوجود اس بات کے کہ اس میں اس کا اپنا ذاتی کوئی گناہ نہیں(ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ نمبر ٧٦٥تا ٧٦٨: ازمیونڈی بزرگ پرگنہ اجاؤں ڈاکخانہ شاہی ضلع
بریلی مرسلہ سیّد امیر عالم حسن صاحب
١٦ شوال ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(١) جو شخص زنا کرتا ہو اور اس
کا ثبوت بھی ہوگیا ہو تو جو اُس کے پیچھے نماز پڑھیں وہ ہوئیں یا نہیں۔
(٢)جب زانی ایساشخص توبہ کرلے تو اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ۔
(٣) زانی اپنے افعال سے توبہ کرتا ہے اور گاؤں والے اُس کی توبہ کو نہیں مانتے تو وہ گاؤں والے کس جرم کے مستحق اور کس درجہ شمار ہیں
(٤) جس عورت نے اپنے شوہر سے سرکشی کی اور اُس کے حکم کو نہ مانا اور شوہر کا دل دکھایا اور شوہر پر زبان درازی کی تو ایسی عورت کو طلاق دینا واجب ہے یا نہیں،اور اگر شوہر اپنی بی بی کی زبان درازی اور سرکشی پر راضی ہے اور وُہ امامت کراتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔
الجواب:
(١) زنا کا ثبوت سخت دشوارہے جسے عوام ثبوت سمجھتے ہیں وہ اوہام ہوتے ہیں ،جب تك اس کی یہ حالت نہ تھی اس وقت تك اُس کے پیچھے نماز میں کوئی حرج نہ تھا اُن کا اعادہ کی بھی کچھ حاجت نہیں فانہ ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع