30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باطل۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٥٦،٧٥٧: ازمیڑتہ سٹی ضلع جودہ پور مسئولہ فخرالدین شاہ ١٩ذیقعد ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
(١) یتیموں کو تکلیف دینا اورغیبت کرنا اور جھوٹی قسم کھانا مسلمانوں میں نفاق ڈلوانے والے کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں۔
(٢) ایك شخص یہاں میڑتہ میں پیرزادہ کہلاتے ہیں اُس نے اپنی عورت کو طلاق دی تین روز برابر اس کو سمجھایا پر نہیں مانا ، کہا کہ مہر دے ،کہاکہ مہر میں نے معاف کروایا،پھر ہم نے اس لڑکی سے تلاش کیا،جواب دیا کہ مہر تو میں نے معاف کردیا ،اور پھر اس کے چچا وغیرہ نے اس لڑکی کو اس کے گھر بھجوادیا بغیر نکاح کرے،طلاق ہوئی یا نہیں،اس کے بچّہ پیدا ہُوا وہ حرام کا ہے یانہیں،اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں،یتیم سے بہت عداوت رکھتا ہے۔بینواتوجروا
الجواب:
(١) یتیموں کو بلاوجہ شرعی تکلف دینا سخت حرام ہے ، یونہی غیبت زنا سے سخت تر ہے جبکہ شرعًا غیبت ہو مثلًا فاسق معلن کی غیبت غیبت نہیں،اور بدمذہب کی برائیاں بیان کرنے کا خود شرعًا حکم ہے،جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر چھوڑتی ہے ،اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی تفرقہ ڈالنا شیطان کا کام ہے،اور فتنہ قتل سے سخت تر ہے ،فتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پر اﷲ کی لعنت ہے،جو ان افعال کا علانیہ مرتکب ہو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٢) طلاق ہوگئی اور مہر عورت معاف کردیا ہے معاف ہوگیا۔بچّہ اگر طلاق سے دو٢ برس کے اندر پیدا ہوا حلالی ہے اُسی شوہر کا ہے۔طلاق دینے سے نمازکی امامت میں کوئی خلل نہیں آتا ۔یتیم سے بلاوجہ عداوت سخت گناہ ہے ،اگر اس کی بلاوجہ عداوت علانیہ مشہور ہے تو امام بنانے کے قابل نہیں ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٥٨: ازچھاؤنی فیروز پور کباڑی بازار مسئولہ حاجی خواج الدین ٹیلر ماسٹر ٢٩ذیقعد ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیںعلمائے دین کہ زناکار اور شرابی کے پیچھے نماز کسی وقت جائز ہے یا نہیں جب امام مقیم ہو وُہ ہرایك کو امام مقرر کردیتا ہے یہ جائز ہےکہ نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زانی اور شرابی کے پیچھے کسی وقت نماز پڑھنے کی اجازت نہیں مگر جہاں جمعہ و عیدین ایك ہی جگہ ہوتے ہوں اور امام فاسق ہو اُس کے پیچھے پڑھ لئے جائیں ور جمعہ کا اعادہ کو چار رکعت ظہر پڑھیں ، امام غیر جمعہ وعیدین میں اگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع