30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لان الجماعۃ واجبۃ والصلاۃ خلف فاسق غیر معلن لا تکرہ الاتنزیھا۔واﷲ تعالٰی اعلم |
کیونکہ جماعت واجب ہے اور فاسق غیر معلن کے پیچھے نماز پڑھنا زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہی ہے(ت) |
(٢) جائز ہے ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٥٣، ٧٥٥: ازسینوٹوریم ضلع نینی تال مسئولہ سراج علی خان صاحب رضوی بریلوی ١٦ شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(١)فاسق کی کیا تعریف ہے ؟ فاسق وفاجر میں کوئی فرق ہے؟فاسق کے پیچھے نماز کیسی ہے؟ فاسق معلن کب کہا جائے گا اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے ،اسے جان کر امام بنانے والے کا کیا حکم ہے؟
(٢) ہاتھ یا پیر میں انگوٹھی چھلّے پہننا یعنی ایك نگ کی ایك انگوٹھی موافق شریعت مطہرہ سے زائد پہننے والے کا کیا حکم ہے ،اُس کے پیچھے نماز کیسی ،اس پر اصرار کرنے والا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی کس درجہ موردِ گناہ ہے۔
(٣) دو٢یا تین٣ شخص ایسے جمع ہوکر جماعت سے نماز پڑھنا چاہتے ہیں کہ ایك بالکل جاہل مگر صورت ہیئت لباس وغیرہ سب شریعت کے مطابق ہے اور نمازی بھی ہے مگر قرآن پاك کی تلاوت اس کو نہیں آتی اورتلفّظ بالکل ادا نہیں ہوتا، دوسرا خواندہ قرآن کی قرأت کرسکتا ہے ضروری مسائل بھی جانتا ہے مگر فاسق ہے،تیسرا مسافر ہے جس پر قصر واجب ہے بے علمی میں پہلے شخص کا درجہ رکھتا ہے مگر صرف ان سُورتوں میں معمولی طریقہ سے پڑھ سکتا ہے جو نماز میں بار بار آتی ہیں مثلًا الحمد شریف یا قل ھواﷲ شریف وغیرہ ،ان میں سے کس کو امام بنایا جائے ، اور اگر کوئی بھی امامت کے قابل نہیں تو کیا علیحدہ علیحدہ پڑھیں۔بینواتوجروا
الجواب:
(١) فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں ، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ ،اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یاصغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کے پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب ۔واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) ایك آدھ بار پہننا گناہ صغیرہ اور اگر پہنی اور اتار ڈالی تو اس کے پیچھے نماز میں حرج نہیں اور اگر نماز میں پہنے ہو تو اسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ،یوں ہی جو پہنا کرتا ہے اُس کا عادی ہے فاسق معلن ہے اور اس کا امام بنانا گناہ اگراس وقت نماز میں نہ بھی پہنے ہو۔گناہ اگر چہ صغیرہ ہواُسے چھوٹی بات کہنا بہت سخت جرم ہے ،اس شخص پر توبہ فرض ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٣) صورت مذکور میں اس مسافر کو امام کیاجائے کہ فاسق کو امام بنانا گناہ ہے اور غلط خواں کے پیچھے نماز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع