30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان وجوہ امام مذکور کی امامت میںاصلًا کوئی خلل کیا کراہت بھی نہیں اورجو اس سبب سے اُس کے پیچھے نماز حرام بتاتا ہے اﷲ عزوجل ونبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و شریعت مطہرہ پر افترا کرتا ہے اُس پر توبہ فرض ہے ورنہ سخت عذاب ِنار وغضب جبّار کا مستحق ہوگا۔
|
قال اﷲ تعالٰی اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَایُفْلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾[1]۔ مَتٰعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾وقال اﷲ تعالٰی وَ یۡلَکُمْ لَا تَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ کَذِبًا فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَابٍ ۚ[2]۔ والعیاذ باﷲ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا :وُہ جو اﷲ پر جھوٹا افترا اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائی ں گے دنیا کا تھوڑا برت لینا ہے اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔ اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تمھاری خرابی ہو اﷲ پر جھوٹ نہ باندھو کہ تمھیں عذاب میں بھون ڈالے گا۔ |
مسئلہ نمبر ٧٥٠: ازتلوندی رائے ضلع لودھیانہ پنجاب مسئولہ اقبال محمد ٧ شوال١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاںایك سیّد صاحب ہیں قرآن کریم کو کافی درست پڑھتے ہیں ایك نہایت ہی اعلیٰ بزرگ کے مرید ہیں ان بزرگ سے ان کوخلافت کا رتبہ مل گیا ہے قرآن مجید اچھا پڑھنے کی وجہ سے اکثر مسجد میں امامت کرتے ہیں لیکن سیّد موصوف نے ایك شغل اختیار کیا ہے وُہ یہ کہ ایك باعزت نمازی تہجّد خواں پرہیز گار نوجواں کا پیر بھائی ہے اور دو چار یوم پہلے سید صاحب نامعلوم ظاہری و باطنی اس کو دوست سمجھتے تھے مگر اب لوگوں کو ان کے چند آدمیوں کے خلاف قطع تعلق کی ترغیب دیتے ہیں حالانکہ وہ بے قصور ہیں اور بلاوجہ سید صاحب وغیرہ نے ان کو ذلیل کرنے کے لئے یہ حرکت کی ہے کہ ایك بڑے مجع میں سیّد صاحب نے بیٹھ کر قرآن شریف درمیان رکھ کر اہلِ مجلس کو علانیہ کہا کہ ان چند آدمیوں سے قطع تعلق کی قسم کھاؤ اور قرآن عظیم کو ہاتھ لگاؤ کہ ہمارا یہ قول تا زندگی رہے گا۔آیا سید صاحب موصوف امامت کے قابل ہیں یا نہیں،اگر ہیں تو کیا وُہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں جن کے ساتھ خواہ مخواہ بلاوجہ ایسا سلوك کیا گیا ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر یہ واقعی بات ہے کہ سیّد صاحب مذکور نے ان مسلمانوں سے بلاوجہ شرعی محض کسی خصوصیت دنیوی کے سبب اپنے پیر بھائی اور مسلمانوں سے قطع تعلق کیا اور ہمیشہ کے لئے کیا اور علانیہ برسرِ مجلس کیا تو قابلِ امامت نہ رہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع