30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شریعت مطہرہ سے سرتابی ہے باطل پر اعانت حرام ہے
|
قال اﷲ تعالٰی وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪[1]۔ |
اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے: گُناہ اور زیادتی پر باہم تعاون نہ کرو۔(ت) |
ایسا شخص جس کی امامت شرعًا ممنوع ہے اگر جمعہ پڑھاتا ہو تو دوسری جگہ جمعہ پڑھیں جبکہ وہ قصبہ مصر شرعی ہو جہاں جمعہ صحیح وجائز ہے۔فتح القدیر میں ہے:لانہ بسبیل من التحول[2] (کیونکہ دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن ہے۔ت)
اور روزہ میں غل مچانا اور اظہارِ بے صبری کرنا مکروہ ہے ،حقیقت واقعہ چھپاکر علماء سے غلط فتویٰ لینا شریعت کو دھوکا دینا اور سخت حرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر٧٤٣،٧٤٤: ازمنصور پور ضلع مظفر نگر مسئولہ عبدالصمد صاحبسُنّی حنفی صوفی ٢٨رمضان ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١) جس شخص میں بوجہ حرص کے طمع ہو اور ذلّت کے ساتھ سوال کرنے کا عادی ہو باوجود معقول تنخواہ پانے کے ایسے بے حرمت آدمی کے پیچھے شرفا کی نماز کامل ہوسکتی ہے یا نہیں۔
(٢) جو شخص یہ کہے کہ میں فلاں آدمی کا معین صورت میں محض نماز پڑھانے کے واسطے ملازم ہوں نماز جنازہ پأڑھانے سے یا کسی مقتدی کی اطاعت سے مجھے کیا کام ایسا آدمی قابلِ امامت ہے یا نہیں۔ بینواتو جروا
الجواب:
(١) بے ضرورت سوال حرام ہے ایسا شخص فاسق معلن ہے اُسے امام بنانا گناہ ہے اس کے پیچھے عالم و جاہل سب کی نماز مکروہ تحریمی کی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ۔واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) اما م پر بلاوجہ مقتدی کی اطاعت لازم نہیں ،نہ اُسے نمازِجنازہ پڑھانا ضرور ،اس کے کہنے سے اس کی قابلیت امامت میں کوئی خلل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ نمبر ٧٤٥،٧٤٧: از مدرسہ اہلسنت منظر اسلام مسئولہ مولوی عبداﷲ صاحب مدرس مذکورہ ٣ شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(١) کسی مسجد میں جماعت تیار ہے لیکن اتنا وقت نہیں کہ دریافت کیا جائے کہ امام سُنّی ہے یا وہابی، تو جماعت سے نماز پڑھنا چاہئے یا اپنی علیحدہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع