30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
امام کو لازم ہے کہ نماز میں وُہ سورت یا آیات پڑھے جو اُسے پختہ طور پر یاد ہوں کچّے یاد ہونے کی وجہ سے اگر غلطی کرتا ہے تو یہ دیکھا جائے کہ وہ غلطی کس قسم کی ہے اُس سے فساد ِ معنی یا کسی واجب کا ترك لازم آتا ہے یا نہیں،اگر نہیں تو نماز دہرانا بے معنی ہے اور اس کا الزام جہالت پر ہے نہ کہ قرأت پر، اور اگر ہاں تو بے شك ایسا شخص قابلِ امامت نہیں،خطبہ میں صحتِ لفظی ہونا نماز کی طرح شرط نہیں۔ہاں ایسا خطبہ خلافِ سنّت ہے ۔مغلظات بکنا فسق ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا کہ فحش بکا کرنا مسلمان کی شان نہیں[1]۔ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے ۔شطرنج کھیلنے والوں کو چال بتانا اگر گوشہ تنہائی میں نہیں بلکہ برملا عام نطر گاہ میں ہے یا اس پر مداوت ہے تو یہ بھی فسق ہے،قمار بازوں کی طرح پانسے بناکر اُن سے کھیلنا بھی گناہ ہے اگرچہ کوئی شرط نہ لگائی جائے ۔علمائے کرام نے فرمایا کہ شراب کے دور کی طرح پانی پینا حرام ہے،نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔من تشبہ بقوم فھو منھم [2](جو کسی قوم سے مشاہبت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ت)بیوہ پسر کا جو واقعہ لکھا اگر واقعی ہے اور حسب ِ عادت زمانہ لوگوں کی بدگمانی نہیں جس پر وہ تہمت لگانے والے خود اسی٨٠اسی٨٠ کوڑوں کے مستحق ہوں بلکہ ثبوت صحیح شرعی سے ثابت ہے تو ایسا شخص ہر گز میل جول کے قابل نہیں، مسلمانوں کو اُس کے پاس بیٹھنا منع ہے:
|
قال ﷲ تعالٰیوَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد مبارك ہے: اور اے سننے والے جب کہیں تجھے شیطان بھُلا دے تو یاد کر آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت) |
اوراسے امام بنانا حرام ،فتاوٰی حجہ میں ہے:
|
لوقدمو فاسقایاثمون۔[4] |
اگر لوگوں نے فاسق کو امامت کے لئے مقدم کیا تو وہ گناہ گار ہوں گے۔(ت) |
مسجدمیں گالیا دینا سخت حرام اور بیت اﷲ کی بے ادبی ہے،ان ناصحوں کی نصیحت پر گالیاں دینا اوربھی زیادہ خبیث اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع