30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
(١) ایسی اجمالی باتوں پر حکم نہیں ہوسکتا وہ کیسا عالم اور وجہ حسد کیا تاوقتیکہ تفصیل نہ معلوم ہواجمالی بات کا جواب نہیں دیا جاسکتا عالم علمائے دین ہیں اور وہابیہ وغیر ہم مرتدین بھی عالم کہلاتے ہیں اور وجو ہ منازعت بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(٢) جو شخص دانستہ بوہروں کا ذبیحہ کھاتا ہے مردار کھاتا ہے اسے امام بنانا جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز منع۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(٣) فقط اتنا کہ دنیا کی بات مسجد میں کرتا ہے علی الاطلاق ممانعت امامت کا موجب نہیں جب تك علانیہ حد فسق کو پہنچنا ثابت نہ ہو اگر دنیا کی بات کرنے کےلئے بالمقصدمسجد نہیں جاتا نماز کےلئے بیٹھا ہے اور کوئی دنیا کی باتیں بھی کرلیں جن میں فحش وغیرہ معاصی نہ ہوں اگر چہ ایسابھی نہ چاہئے مگراس سے امامت پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٢٧تا ٧٢٨: از موضع سہاون پور گاؤں گوپال گنج متصل ڈروہ ڈاکخانہ ڈروہ تحصیل گنڈہ ضلع پرتاب گڈھ مسئولہ بیخودشاہ ٨ رمضان ١٣٣٩ھ
(١)کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ حنفی کی نماز شافعی کے پیچھے ہوسکتی ہے یا مکروہ ہوتی ہے؟
(٢) اور جو لوگ مولود شریف کو منع کرتے ہیں اور بدعت کہتے ہیں ان کے پیچھے حنفی کی نماز ہو سکتی ہے یامکروہ ہوتی ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
اگرمعلوم ہے کہ اس خاص نماز میں حنفی مذہب کے کسی فرض طہارت یا فرض نماز کا تارك ہے تو حنفی کی یہ نماز اس کے پیچھے نہیں ہوسکتی ، اور اگر معلوم ہے کہ وہ اس نماز فرض و شرط مذہب حنفی کا تارك نہیں تو یہ نماز اس کے پیچھے ضرور ہوسکتی ہے اگر چہ حنفی کے پیچھے اولیٰ ہے ،اور اگراس نماز کا حال معلوم نہیں مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں حرج نہیں اگر چہ حنفی اولیٰ ہے اور اگر اس کی عادت معلوم ہے کہ فرائض وشرائط میں مذہب حنفی کی رعایت نہیں کرتا تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور کراہت شدیدہ ہے پھر اگر ان دونوں صورتوں میں بعدکو معلوم ہوکہ اس نماز میں اس نے رعایت نہ کی تھی وہ نماز پھر پڑھنی ہوگی کہ صحیح یہی ہے کہ مذہب مقتدی کا اعتبار ہے اور اگر بعد کو ثابت ہے کہ اس نماز خاص میں رعایت کی تھی تو نماز ہوگئی اعادہ کی کچھ حاجت نہیں ،اور اگر اس کی عادت ہی کچھ معلوم نہ ہو تو اس کی اقتداء مکروہ ہے، مگر حنفی امام کے پیچھے نماز نہ ملے تو جماعت نہ چھوڑے بعد کو ظہور حال کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع