30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الولد للفراش وللعاھر الحجر[1]۔ |
صاحب نکاح کیلئے ولد (نسب) اور زانی کےلئے پتھر ہے (ت) |
اور اگر عورت بے شوہر تھی اور اس نے عقیقہ کیا تو ازانجا کہ اس سے نسب قطعًا ثابت ہے اور نسب فی نفسہٖ نعمت ہے فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ[2] ( اﷲ تعالیٰ نے آدمی کےلئے رشتے اور سسرال بنائے)اگر چہ جہت سبب سے یہ صورت سخت بلا ہے، اس عقیقہ کی تحریم یا اس کے کھانے کی حرمت ظاہر نہیں ہوتی خصوصًا جبکہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ شراب پینے پر بسم اﷲ کہے توکافر ہے اور پی کر الحمداﷲ کہے تو نہیں کہ شراب اگر چہ بلا ہے مگر اس کا حلق سے اتر جانا اور اسی وقت گلے میں پھنس کر دم نہ نکال دینا، اس شدید عصیان کی حالت میں رب عزوجل کی نعمت ہے۔ فصول عمادی و فتاوی ہندیہ میں ہے:
|
من اکل طعاماحراما وقال عند الاکل بسم اﷲ حکم الامام المعروف بمشتملی ( ھندیہ) انہ یکفر ولوقال عند الفراغ الحمدﷲ قال بعض المتاخرین لایکفر ٣[3] |
جس نے حرام کھایا اور کھانے کے وقت "بسم اﷲ "پڑھی امام معروف مشتملی( ہندیہ) نے کہا کہ وہ کافر ہے اور فراغت کے بعد اگر "الحمد ﷲ" کہا تو بعض متاخرین نے کہا کہ اس سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ (ت) |
البتہ اگرزانی نے عقیقہ کیا تو وجہ نعمت اصلًا منتفی ہے پھر بھی زنا پر شکر اس سے مفہوم نہیں ہوتا بلکہ بہت جہال یہ جانتے بھی نہیں کہ عقیقہ سے شکر مقصود ہے ایك رسم سمجھ کر کرتے ہیں اس صورت میں شرکت اور اس کا کھانا ضرور معیوب و شینع تھا۔ امامت پر لعنت توصریح کفر ہے مگر اس سے یہ مقصود ہوسکتا ہے کہ اگر یہ شخص امامت کرے تو اس شخص پر لعنت ہے یہ کیا تھوڑا ناپاك لفظ ہے ، زید کی امامت نامناسب ، خصوصا اگر صدیق حسن خاں کے مذہب پر ہو کہ ان حالات میں ضرور بددین ہے اور اسے امام بنانا حرام ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٢٢: زید کچہر ی میں جاکر مقدمہ دائر کرتا ہے اور اس کی کوشش اور پیروی میں مصروف رہتا ہے اس کے لڑکے کی منکوحہ بیوی یتیم ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش کا بھی نہیں ہے اور اس کا لڑکا باہم کھاتے پیتے ہیں اور لڑکے کی منکوحہ بیوی کو اپنے یہاں بلاتے نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف میں ہے ، زید نے لڑکے کا نکاح ثانی بھی کرلیا آیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ اس کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع