دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 6 | فتاوی رضویہ جلد ۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۶

مسئلہ ٧٢١:                             از باندی کوئی مرسلہ منشی عبدالرحمن ملازم ڈاك سفری                  ٨شعبان ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علماتے دین اس مسئلہ میں کہ زید بسبب ہونے حافظ قرآن ایك مسجد میں بخدمت پیش امامی وبرائے تعلیم قرآن طفلان اہل اسلام سنت وجماعت کے مقرر کیا گیا چند عرصہ بعد تك بظاہر کسی قسم کا فرق نہ معلوم، ہونے سے ایك گروہ جاہلوں کے معتقد ومطیع زید ہوگئے ۔ جب زید دو تین لڑکوں کا حافظہ ختم کراچکا اور اپنا رسوخ پورا پورا جما چکا تو اپنے منصب امامت پر فخر کرنے لگا اور مسجد کو اپنی میراث جان کر کہنے لگا کہ مجھ کو اس مسجد سے کوئی ہٹانہیں سکتا ، غرض زید کا ایك شاگرد رشید بکر نامی جس کا حافظہ ختم ہوچکا تھا اس کی شادی ہوجانے کے بعد اس کے والد نے زید ہی کو زوجہ بکر کی تعلیم قرآن کے لئے مقرر کیا چند ہی عرصہ میں انگشت نمائی ہونے لگی یہاں تك کہ برسوں کے بعد معاملہ طول ہو کر ظاہر ہوا تو بکر سے طلاق دلایاگیا اور زید نے مطلقہ کو خود نکاح میں لاکر فخر یہ کہتا ہے اب تو موافق شرع کے حرام نہیں ہے چونکہ عورت جو ان زید سن رسیدہ تھا زید کے دباؤ میں نہ رہ کر آزادانہ روش اختیار کرکے پردہ بھی بالا ئے طاق رکھا اور زید کے جو جو ان پرانے شاگرد تھے ان سے خلا ملا رہنے لگا ، چونکہ زید دیکھنے والا نواب صدیق حسن بھوپالی کا ہے ہر موقع پر حق کو ناحق اور ناحق کو حق بتا کر جاہلوں کی سیدھا کرلیا کرتا تھا اس پر تھوڑے لوگ حق شناس تھے ان سے الگ رہنے لگا اس کے درمیان ایك لڑکا ولد الزنا پیدا ہوا اس کا عقیقہ کیا گیا یہی زید پیش امام صاحب شریك عقیقہ ہو کر بکرے کی کھال کی غرض سے خوب پلاؤ پر ہاتھ مارکر پکارنے لگے کہ عقیقہ کھاناجائز تھا ہرگز حرام نہیں جب اس پر بھی لوگ ان کی پیش امامی پر معترض ہوئے تو خودہی زید صاحب غیظ وغضب میں آکر چلاّ اٹھے کہ پیش امامی کرنے پر لعنت ہے میں تو ہرگز نماز نہیں پڑھاؤں گا جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں وہی پڑھائیں قہر درویش برجان درویش ایك ہفتہ تك نماز پڑھانے سے رکے رہے آخر جھك مارکر خود ہی نماز پڑھانے لگے اور لوگوں نے نماز پڑھی، پس ان سب باتوں پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:

اگر چہ لوگوں کی انگشت نمائی کا اعتبارنہیں اکثر محض باطل بدگمانی پر ہوتی ہے مگر زید کا بعد نکاح کہنا اب تو حرام نہیں ظاہرًا اس پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حرام تھا تو یہ اقرار حرام ہوا ، اگر چہ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کے پہلے تم مجھ پر ناحق بدگمانی حرام کرتے تھے اب تو حرام نہیں۔ زن زید کی نسبت جو لکھا گیا ہے اگر برضائے زید ہے یا زید بقدر قدرت بندوبست نہیں کرتا تو دیوث ہے اور دیّوث سخت اخبث فاسق ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔ اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی گناہ ،اور پڑھی تو پھیرنا واجب ، سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زنا سے لڑکا کس کے پیدا ہوا ، اگر کسی دوسرے کے یہاں کایہ واقعہ ہے اور وہ عورت شوہردار ہے ، شوہر نے اسے اپنا بچہ ٹھہراکر عقیقہ کیا توبیشك اس میں کوئی حرج نہ تھا، نہ اس کے کھانے میں کوئی حرج ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن