30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اس کی قتداء حرام ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٢٠: از دہلی چاندنی چوك متصل گھنٹہ گھر مسجد باغ والی مرسلہ مولوی عبدالمنان صاحب ١٦ رجب المرجب ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید قدیم الایام سے ایك مسجد کا پیش امام تھا اب بعض اہل محلہ نے اس سے برخلاف ہوکر ایك دوسرے امام کو کھڑا کردیا ہے اور اس سے پہلے امام میں کوئی عیب شرعی جس سے معزول ہوسکے نہیں پایا گیا اور پہلا امام ثانی کے کھڑا کرنے پر ناراض ہے اور کہتا ہے کہ میری اجازت کے سوا اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے کیا اس امام اول کا کہنا ٹھیك ہے کہ امام ثانی کے پیچھے نماز مکروہ ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر واقع میں امام اول نہ وہابی ہے نہ غیر مقلد نہ دیوبندی نہ کسی قسم کا بد مذہب ، نہ اس کی طہارت یا قرأت یا اعمال وغیرہ کی وجہ سے کوئی وجہ کراہت ، بلاوجہ اس کو معزول کرنا ممنوع ہے حتی کہ حاکم شرع کو اس کا اختیار نہیں دیا گیا ۔ ردالمختار میں ہے:
|
لیس للقاضی عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ [1]۔ |
بغیر کسی وجہ کے قاضی مقرر امام کو معزول نہیں کرسکتا ۔(ت) |
اور اگر واقعی اس میں کوئی وجہ کراہت ہے تو اس کی امامت مکروہ ہے اور اس کی نماز نا مقبول۔ صحاح احادیث میں ہے:
|
ثلثۃ لاترفع صلا تھم فوق اذانھم شبرا ( وعد منھم) من ام قوما وھم لہ کارھون ٢[2]۔ |
تین اشخاص کی نماز ان کی کانوں سے ایك بالشت برابر بلند نہیں ہوتی(اور ان میں سے ایك وہ شخص ہے) جو کسی قوم کی امامت کروائے حالانکہ وہ لوگ اسے پسند نہ کرتے ہوں ۔ (ت) |
اور اگر اس میں کوئی وجہ فساد نماز ہے مثلًا غیر مقلد یا دیوبندی یا غیر صحیح الطہارۃ یا غیر صحیح القراۃ ہونا ، جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت فاسد اور اس کے پیچھے نماز باطل ، محض اس کا معزول کرنا فرض ہے ۔واﷲ تعالیٰ اعلم
[1] ردالمحتار کتاب الوقف مطلب لایصح عزل صاحب وظیفۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣/٤٢٣
ف:ردالمحتار میں یہ عبارت اختلاف الفاظ کے ساتھ متعدد جگہ پر موجود ہے معنی متحد ہے ٣/٤٢٢، ٤٥٢،٤٥٩ط نذیر احمد
[2] سنن ابن ماجہ باب من ام قومًاوہم لہ کارھون مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٦٩
ف: سنن ابن ماجہ میں '' فوق اذانھم '' کی جگہ '' فوق رؤسھم '' ہے نذیر احمد سعیدی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع