30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٤) جس امام کے دونوں ہاتھ ہوں مگر ایك ہاتھ سیدھا یعنی سیدھاہاتھ نکما ہو اور بائیں ہاتھ سے آبدست لیتا ہو استنجا کرتا ہوں وضوکرتا ہو اور کھانا کھاتا ہو امام ہوسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب:
(١) اپنا عقیدہ و مذہب دریافت کرنے پر نہ بتانے سے ظاہر یہی ہے کہ اس میں کچھ فساد ہے ورنہ دین بھی کچھ چھپانے کی چیز ہے، اس کی اقتداء ہر گز نہ کی جائے کہ بطلان نماز کا احتمال قوی ہے اور نماز اعظم فرائض اسلام سے ہے اس کے لئے سخت احتیاط مطلوب ، یہاں تك کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا:
|
لان الصلوٰۃ متی فسدت من وجہ و جازت من وجوہ حکم بفسادھا[1] واﷲ تعالیٰ اعلم |
جب کسی ایك وجہ پر نماز فاسد ہو اور متعدد وجوہ کی بنا پر درست تو فساد نماز کا حکم ہوگا۔(ت) |
(٢) اس میں دونوں ہی باتیں ہیں بعض مقتدیوں کے مزاج میں تشدد اس قدر ہوتا کہ وہ چند منٹ کا آگا پیچھا روا نہیں رکھتے ایسی حالت میں اگر امام نے اس پر انکار کیا بیجا نہ کیا اوراگر امام کی طرف سے بلاوجہ شرعی تکاسل ہے اور اس جماعت کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس پر الزام ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(٣) رنجیدگی دیکھی جائے گی اگر اس میں کسی قصور شرعی کی وجہ سے ہے تو اسے امام بننا گناہ ہے اور بحکم حدیث اس کی نماز مقبول نہ ہوگی۔
|
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا الی ان قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و من ام قوما وھم لہ کارھون[2]۔ |
تین اشخاص کی نماز ان کے کانوں سے ایك بالشت برابر بھی بلند نہیں ہوتی ، آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہاں تك فرمایا کہ ایك وہ شخص جو کسی قوم کا امام بن جائے حالانکہ وہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں (ت) |
اور اگر اس میں کوئی قصور شرعی نہیں تو اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور ان رنج والوں پر وبال ہے کما نص فی الدرالمختار ( جیسا کہ درمختار میں اس پر نص موجود ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
(٤) ہوسکتا ہے بلکہ اگر وہی حاضرین میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں وہی امام کیا جائے گا کما نصو علیہ فی المتون والشروح والفتاوٰی(جیسا کہ متون، شروحات اور فتاوٰی جات میں اس مسئلہ کے متعلق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع