30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ساتھ ہوں ظاہر کردیا جائے کہ مسلمانوں کا جمعہ وعیدین فلاں جگہ ہوگی ، جسے اﷲ تعالیٰ ہدایت دے گا شریك ہوجائے گا ان کے پیچھے جو نمازیں بے خبری میں پڑھیں ان کا علاج ایك توتوبہ ہے، دوسرے یہ ضرور ہے کہ ان نمازوں کی قضا پڑھی جائے، اندازہ اتنا کرلیا جائے کہ کوئی نماز باقی نہ رہ جائے زیادہ ہوجائیں تو حرج نہیں ۔ اگر کوئی شخص دارالحرب خاص کفار کی بستی میں بسے جہاں مثلًا صرف ہندو ہوں اور وہ کہے کہ میں یہاں کی سکونت تو چھوڑ نہیں سکتا یہ بتاؤ فوری ضرورت کے مسئلے کس سے پوچھوں تو کیا اس سے کہہ دیا جائے گا کہ پنڈت سے پوچھ لیا کرو اناﷲ وانا الیہ راجعون۔واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٠٦: از موضع سریا ڈاکخانہ تیلو تہو ضلع شاہ آباد آرہ مرسلہ شیخ مدار بخش ١٨ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص معمولی اردو خواں مؤذنی بھی کرتا ہے اور امامت بھی کرتا ہے اور وہی شخص گھر گھر سے صدقہ فطر مال زکوٰۃ و کھال قربانی وغیرہ لیتا اور کھاتا ہے اور قبرستان میں جوغلّہ پیسہ کوڑی خیرات کیا جاتا ہے وہ بھی لیتا ہے اور اس کا پیشہ یہی ہے ، ایسے شخص کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟ امام کےلئے کون کون شرائط ہیں ؟ کیسے شخص کو امام ہونا چاہئے ؟ اگر بجائے شخص مذکور کے دوسراشخص جو ان باتوں سے محتاط ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے یا نہیں؟
الجواب:
اگر وہ فقیر ہے صاحب نصاب نہیں ، نہ سید ہاشمی ہے تو ان اموال کا لینا اسے جائز ہے اور اس وجہ سے اس کی امامت میں کوئی حرج نہیں۔ امامت کیلئے صحیح الاسلام صحیح الطہارت ،صحیح القراء ت ،سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن درکارہے جس میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہوگی اسکے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیں مکروہ تحریمی ہوگی اس شخص میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہے تو اس کی امامت جائزنہیں،واجب کہ دوسرے کو جو ان باتوں کا جامع ہو امام کریں اور یہ سب باتیں اس میں ہیں تو اس کی امامت میں حرج نہیں ، پھر دوسرا اگر نماز وطہارت کے مسائل اس سے زیادہ جانتا ہے تو وہ دوسرا ہی اولی ہے اور اگر یہ زیادہ جانتا ہے تو یہی بہتر ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٠٧ تا ٧١٠: از کراچی گاڑی احاطہ محلہ رام باغ مرسلہ نور احمد مولیڈنہ واکانی مہمیز ١٨ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
(۱)جس امام کو اس کے عقائد پوچھے جائیں اوروہ نہ بتائے تو اس کی اقتداء جائز ہے یا نہیں؟
(٢) جو امام وقت مقررہ کا پابند نہ ہو یعنی کہے کہ نماز مقررہ وقت پر پڑھنا عرش اعظم پر لکھا ہوا ہے کیا ، حالانکہ مصلیوں کی آسانی کے لئے جماعت نے وقت مقرر کیا ، اس کو کیا سمجھنا چاہئے؟
(٣) جس امام سے جماعت کے بعض آدمی ناراض ہوں اور بعض اس کی خوشامد کرتے ہوں توایسے کی اقتداء کرنا جائز یا نہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع