30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو معاف ہونی چاہیں ، کیونکہ بے خبری میں ایسی خطاہوئی ، اور یہ بھی ناممکن ہے کہ حسن پور چھوڑدیا جائے ۔ حضور اس پر کچھ توجہ فرمائی جائے اور کوئی سبیل نکال دی جائے ۔ اور فورًا جو مسئلہ دریافت کرنا ہو وہ کس سے دیافت کیا جائے کیونکہ وہاں جو عالم ہیں وہ وہی ہیں ، گو حسن پور میں میلاد شریف ، تیجہ ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کثرت سے ہوتا ہے مگریہ خبر نہیں کہ ان کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھی جائے۔
الجواب:
دیوبندی عقیدے والوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے ، ہوگی ہی نہیں ، فرض سر پر رہے گا اور ان کے پیچھے پڑھنے کا شدید عظیم گناہ ۔ علاوہ امام محقق علی الاطلاق فتح القدریر شرح ہدایہ میں ہمارے تینوں ائمہ مذہب امام اعظم و امام ابو یوسف وامام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے نقل فرماتے ہیں: ان الصلوٰۃ خلف اھل الھواء لاتجوز [1]۔ اہل بدعت کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (ت)
اس میں سب برابر ہیں نماز پنجگانہ ہو خواہ جمعہ یا عید یا جنازہ یا تراویح ، کوئی نماز ان کے پیچھے ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اگر( ان کو قابل امامت یا مسلمان جاننا بھی درکنار ) ان کے کفر مین شك ہی کرے تو خود کافر ہے جبکہ ان کے خبیث اقوال پر مطلع ہو علمائے حرمین شریفین بالاتفاق فرماتے ہیں:
|
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر [2]۔ |
جو شخص ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ (ت) |
جب وہاں میلاد شریف اور سوم وغیرہ کرنے والے بکثرت ہیں تو ضرور وہ لوگ دیوبندی نہیں، انھیں علمائے کرام مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ کے فتوے (کہ دس برس سے چھپ کر تمام ملك میں شائع ہورہے ہیں) دکھائیے اور رسالہ" تمہید ایمان " پڑھ پڑھ کر سنائیے الحمد اﷲ مسلمان ایسے نہیں کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے پیچھے نماز جائز مانیں یا اسے مسلمان مانیں ان شاء اﷲ تعالیٰ اﷲ عزوجل ضرور ہدایت واثر بخشے گا اور مسلمان ہوشیار ہو کر ان کے پیچھے نماز چھوڑدیں گے اور سنی عوام اپنے لئے پنجگانہ وجمعہ و عیدین و جنازہ سب کے لئے مقرر کریں گے اور اگر بالفرض کوئی نہ سنے تو دو آدمی مل کر سوائے جمعہ سب نماز وں پنجگانہ وعید و جنازہ وغیرہ میں جماعت کرسکتے ہیں ایك اور ایك مقتدی بس کافی ہے اور جمعہ کے لئے ایك شخص اہل کو امام مقرر کیجئے کہ وہی عیدین کی بھی امامت کرے اور جمعہ میں کم سے کم تین مقتدی ہوں جمعہ ہوجائے گا زیادہ نہ مل سکیں تو کچھ حرج نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ جمعہ و عیدین اعلان کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع