30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ اسے ترك کرے گا اور دوسرے مجتہد کی تقلید اس پر نہیں یا اہل ورع کے لئے ان خاص امور دقیقہ میں ہے جن پر ظاہر شریعت مطہرہ سے فتوٰی جواز ہوگا اور متورع محتاط کا قلب اس پر مطمئن نہ ہوگا وہ اس سے بچے گا نہ اس لئے کہ فتوٰی معتبر نہیں بلکہ اس لئے کہ ایسی جگہ مقام تقوٰی فتوٰی سے اعلیٰ ہے۔ ایك بی بی سید نا امام احمد کے پاس حا ضر ہوئیں رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، اور مسئلہ پوچھا بادشاہ کی سواری نکلتی ہے کیا میں اس کی روشنی میں سوئی میں ڈورا ڈال سکتی ہوں ۔ امام نے ان کی طرف نظر اٹھا ئی اور فرمایا آپ کون ہیں؟ کہا میں بشر حافی کی بہن ہوں رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۔ فرمایا ایسا ورع تمھارے گھر سے نکلا ہے وباﷲ التوفیق واﷲ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٠٤: از چوپرا ڈاك خانہ بائسی مرسلہ محمد کلیم الدین صاحب ١٤ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز جمعہ بعد نماز فجر قبل فرض جمعہ کوئی نماز پیش مصلّٰی پر خواہ اشراق ہو یا قبل الجمعہ غرہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض علماء فرماتے ہیں منع ہے بعض فرماتے ہیں جائز ہے۔ بینو اتوجروا
الجواب:
وہ مصلّٰی اگر واقف نے صرف امامت کے لئے وقف کیا ہے تو امام وغیر امام کوئی اسے دوسرے کام میں نہیں لاسکتا اگرچہ صراحۃً یاوہاں کے عرف کے سبب دلالۃً ممانعت ہو اور اگر صرف امام کے لئے بطور مذکور وقف ہواہے تو امام اس پر نوافل بھی پڑھ سکتا ہے دوسرا کچھ نہیں اور اگر عام طور پر وقف ہوا یعنی صراحۃ تخصیص ہے نہ دلالۃً تو غیر وقت امامت میں ہر شخص اس کو فرائض و نوافل سب کے کام میں لاسکتا ہے بلکہ درس وتدریس کے بھی ، کما فی القنیۃ۔ ( جیسا کہ قنیۃ میں ہے ۔ت) واﷲ سبحنہ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٠٥: از حسن پور ضلع مرادآباد مرسلہ طفیل احمد صاحب قادری برکاتی رضوی سلمہ اﷲ القوی ١٨ ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
حضور مجھ کو معلوم ہواہے کہ دیوبندی کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی تو حضور ہم نے جو بے خبری میں ان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا کیا جائے، اور حضور حسن پور سب مسجدوں میں وہی لوگ امام ہیں تو اب ہم کیا کریں اور اگر اپنی اپنی نماز پڑھ بھی لی تو نماز جمعہ کو کیا کیا جائے کیونکہ جہاں جہاں جمعہ ہوتا ہے وہی امام ہیں ، اور عیدیں بھی وہی پڑھاتے ہیں اور جنازہ کی بھی اور نماز تراویح بھی ۔ پھر یہ کہ جب ہم مریں گے تو ہمارئے جنازوں کی نماز بھی یہی پڑھائیں گے توحضور ہم بے نماز ہی دفن ہوں گے کیونکہ اگر انھوں نے پڑھائی بھی تو وہ نماز ہی کیا ہوئی۔ اور سنی بس ہم دو تین شخص ہیں ، اول حضور کوئی ایسی ترکیب ارشاد ہو کہ جو نمازیں ہم نے ان کے پیچھے پڑھی ہیں معاف ہوجائیں کیونکہ ہمارے ایمان ایسے کمزور ہیں کہ ہم سے پنج وقتہ نماز بھی ادا نہیں ہوتی تو حضور ان کی ادا کی کیا صورت ہے ، وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع