30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اعرج یقوم ببعض قدمہ فالا قتداء بغیرہ اولی تاتارخانیۃ وکذا اجذم برجندی [1] اھ وان لم ارہ فی امامۃ البرجندی من شرحہ للنقایۃ لکن کراھۃ تقدیمہ اذا بلغ التنفیر الی ترك الناس الجماعۃ کما فی السوال ینبغی ان تکون کراھۃ تتحریم لما فیہ من النقض الصریح لمقصود الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من شرعیۃ الجماعۃ وایجا بھا وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشرو اولا تنفرواوالتنفیر المعلل بہ فی الھدایۃ کراھۃ تقدیم العبد والاعمی والاعرابی لا یبلغ عشرھذا بل ھونا درمحتمل وھذا غالب متحقق فاقترقا فھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی عزوجل ۔ |
جسے علامہ شامی کے کلام کا تقاضاہے کیونکہ وہ درمختار کے اسی قول کے تحت لکھتے ہیں اسی طرح وہ لنگڑا ہے جو اپنے پاؤں کے کچھ حصہ پر کھڑا ہوتا ہو اس کے غیر کی اقتداء بہتر واولیٰ ہے تاتار خانیہ اور اسی طرح ہاتھ کٹے کا معاملہ ہے برجندی اگر چہ میں نے برجندی مع شرح نقایہ برجندی کے باب الامامۃ میں یہ مسئلہ نہیں پایا لیکن جب اس کی تقدیم کی ناپسندیدگی اتنی بڑھ جائے کہ لوگ جماعت کو چھوڑنا شروع کردیں جیسا کہ سوال میں ہے تو ایسی صورت میں اسے کراہت تحریمی قرار دینا چاہئے کیونکہ اس میں تو شارع صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقصود کی صریح مخالفت ہے اور وہ مقصود جماعت کا مشروع اور واجب ہوتاہے حالانکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کاارشاد ہے: لوگوں میں محبت و بشارت پیداکرو نفرت نہ پھیلاؤ ۔ اور وہ نفرت جس کی بناء پر صاحب ہدایہ نے غلام ، نابینا اور اعرابی کی امامت کو مکروہ قرار دیا ہے وہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتی بلکہ وہ نادر اور ایك احتمال ہے اور یہ غالب وثابت ہے پس ان دونوں میں فرق ثابت ہوگیا یہ میرے نزدیك ہے اورحق علم میرے رب کے ہاں ہے ۔ (ت) |
(٦) اس کا کہنا کہ بمبئی میں کوئی مکان یا گلی کوچہ ایسا نہ ہوگا جس میں شبانہ روز زنا نہ ہوتا ہو ، اگر وہ تعمیم و تصمیم کرتا تو بمبئی کے لاکھوں مسلمانوں مردوں ، مسلمان پارسا بیبیوں پر صریح تہمت ملعونہ زنا تھی جس کے سبب وہ لاکھوں قذف کا مرتکب ہوتا اور ایك ہی قذف گناہ کبیرہ ہے اور قذف کرنے والے پر لعنت آئی ہے تو وہ ایك سانس میں لاکھوں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا اور لاکھوں لعنتوں کا استحقاق پاتا ہے مگر اس نے مکان اور کوچہ میں تردید سے تعمیم کوروکا اور" نہ ہوگا" کے لفظ سے جزم میں فرق ڈالا پھر بھی ا س قدر میں شك نہیں کہ اس نے وہاں کے عام مسلمانوں مردوں بیبیوں کی حرمت پر دھبا لگا یا اور اسے خاص مجلس وعظ میں کہ کر مسلمانوں کو ناحق بدنام کرنے اور ان میں اشاعت فاحشہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھایا اور بکثرت مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی ایذا دی ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اذی مسلما فقد اذانی ومن |
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع