30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال میں وسط مغربین کو جہت قبلہ روضہ ر خ لکھا اس سے معلوم ہوا کہ مزار مبارك کا منہ صحیح جانب قبلہ تحقیقی ہے تو لازم تھا کہ سرہانا تقریباً سیدھا جانب قطب ہو کہ وسط مغربین و وسط قطبین شیئ واحد ہے مگر نقشہ میں قطب شمالی کا خط دیوار روضہ مبارکہ کی جانب مغرب منحرف بنایا ہے اگرواقعی اتنا انحراف ہے تو وسط مغربین کا ہر گز جہت قبلہ روضہ رخ ہونا متصور نہیں پھر یہاں امراہم اس کی معرفت ہے کہ دیوار محرابِ مسجد کو قبلہ تحقیقی سے کتنا انحراف ہے اگر وہ انحراف ثمن دور یعنی ٤٥ درجے کے اندر ہے تو نماز محراب کی جانب بلا تکلف صحیح و درست ہے ، اس انحراف قلیل کا ترك صرف مستحب ہے خود سوال میں تجنیس ملتقط سے گزرا۔
|
قال الامام السید ناصر الدین ،الاول للجواز والثانی للاحتساب۔[1] |
امام ناصر الدین نے کہا : پہلی صورت میں جواز اور دوسری میں استحباب ہے ۔(ت) |
اسی طرح اُس سے اور نیز ملتقط سے حلیہ امام ابن امیر الحاج میں ہے: شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی و شرح الخلاصہ للقھستانی۔ پھر ردالمحتار میں وہی دو ثلث جانب راست اور ایك ثلث جانب چپ رکھنا بیان کرکے فرمایا :
|
ولولم یفعل ھکذا وصلی فیما بین المغربین یجوز۔[2] |
اگر کسی نے اس طرح نہ کیا اور مغربین کے درمیان نماز پڑھ لی تو جائز ہوگی۔(ت) |
تو ایك امر مستحب کے لئے مسلمانوں کو تردد میں ڈالنا اور صفوف مسجد کو ناقص و نا تمام کر دینا ہر گز مناسب نہیں۔شرع مطہر میں تکمیل نہایت امر مہتم بالشان ہے جس کا پتاا س حدیث سے چلتا ہے کہ رسول اﷲفرماتے ہیں :
|
من وصل صفاوصلہ اﷲ ومن قطعہ قطعہ اﷲ[3] |
جس نے صف کو ملایا اﷲ تعالٰی اسے ملائے گا اور جس نے صف کو قطع اﷲ تعالٰی اسے قطع فرمائے گا(ت) |
یہاں اگر قطع صف موجود نہیں صف بروجہ قطع ہے کہ دیواریں حائل ہوکر تکمیل نہ کرنے دیں گی فکان کالصف بین السواری وقد نھی عنہ بنحو ذلك کما ذکر نافی فتاوٰنا (یہ اس صف کی طرح ہے جو ستونوں کے درمیان ہو حالانکہ اس سے اور اس طرح کی دوسری صورتوں سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا۔(ت)بیانِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع