30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس ملعون کمائی سے فائدہ نہیں لیتے تو ان پر الزام نہیں:
|
قال ﷲ تعالٰی وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ[1]۔ |
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ت) |
لیکن افواہ عام کی بنا پر نفرت وتقلیل جماعت ہو تو ان کی امامت مکروہ تنزیہی ہے اور نامناسب ہوگی اگر چہ پہلی صورت کی طرح مکروہ تحریمی اور گنا نہیں ، یہاں بحمد اﷲ تعالیٰ فتوٰی پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بفضلہ تعالیٰ بفضلہ تعالیٰ تمام ہندستان ودیگر ممالك مثل چین و افریقہ و امریکہ وخود عرب شریف وعراق سے ا ستفتا آتے ہیں اور ایك وقت میں چار چار سوفتوے جمع ہوجاتے ہیں بحمد اﷲ تعالیٰ حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس ١٣٣٧ھ تك اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے ٩١ برس اور خود اس فقیر غفرلہ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون٥١ برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی ١٤ تاریخ کو پچاس٥٠ برس چھ ٦مہینے گزرے، اس نو۹ کم سو۱۰۰ برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے ، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں بحمد اﷲ یہاں کبھی ایك پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا بعونہٖ تعالیٰ ولہ الحمد معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دنیٰ ہمت ہیں جنھوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی وَمَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ مِنْ اَجْرٍۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۴﴾[2] میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پرور دگار پر ہے اگر وہ چاہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٧٠٣: از بمبئی محلا قصابان پوست ٣٠ مرسلہ عبدالرزاق ١٧ شعبان ١٣٣٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید چند ماہ تك پہلے ایك مسجد میں امامت کرتا رہا اور وہاں پر زید کی کئی حرکتیں معلوم ہوئیں کہ پیشاب کرکے ڈھیلا نہ لینا بلکہ پیشاب و پاخانہ کرکے اسی وقت اسی جگہ پانی سے استنجاء کرکے اور لنگوٹ باند کر نماز پڑھنا اور بازاری عورتوں کے ساتھ خلاملا مزاح و تمسخر کرنا، ان باتوں کا چرچا اہل جماعت میں ہونے کو تھا کہ زید دوسری مسجد میں منتقل ہوگیا وہاں بھی اس کی وہی حرکتیں بدستور قائم رہیں ، جب لوگوں نے اس کو لنگوٹ باندھنے اور ڈھیلا نہ لینے کی نسبت پوچھاتو کہا میں معذور ہوں ڈھیلا نہیں لے سکتا اور لنگوٹ میں بوجہ عذر کے باندھتا ہوں مگر نماز کے وقت صرف کپڑے بدل لیتا ہوں ۔ اور خلا ملا عورتوںسے بدستور سے، لوگ اس کی ایسی حرکتوں سے سخت بے زار ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی سخت ناراض ہیں، بلکہ لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترك کردیا چند لوگ اپنی نفسانیت سے اس مکار کی حمایت پراڑے ہیں باوجود اس کے معذور ہونے اور یہ حرکتیں معلوم ہونے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع