30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہر دو باہم فاعل ومفعول تھے یعنی اغلام کرتے تھے زید مفعول کے دیگر رشتہ داران مثل پدر و برادر قصبہ ہذا میں امامت کرتے میں زید کے افعال قبیحہ کی خبر اس کے پدر و برادر اور دیگر رشتہ داران کو بھی تھی جس کی اطلاع ان کو بذریعہ تحریرات کے دی گئی مگر بانیہمہ انھوں نے کبھی زید کو اس فعل ناجائز سے نہیں روکا اور نہ کسی قسم کی زجر و توبیح کی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ زید کی ناجائز آمدنی سے وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے تھے فاعل ومفعول کو ہنگام اختلاط کسی شخص نے بچشم خود نہیں دیکھا مگر واقعات اس امر کو پایہ ثبوت پر پہنچارہے ہیں مثلًا برا در بکر کا تمام شب دونوں کو ایك جا دیکھنا اور بکر کی گوشمالی کرنا اور تحریرات کا عام لوگوں میں بذریعہ ڈاك روانہ کیا جانا اور زید کا عام لوگوں میں اپنی مفعولیت کا اقرار کرنا اور رہا یہاں پولیس کے روبرو زید کا اقبال بیان تحریر کرانا اور اس کے برادر کا تائید کرنا زید کا معمولی حیثیت کا آدمی ہونا مگر زیب وزینت اس درجہ رکھنا اوراس کے پدر وبرادرکا اس طرف توجہ نہ کرنا ،پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ جو شخص خلاف وضع وحرام فعل کریں یا کرائیں ان کی امامت شرعًا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگرمفعول کے پدر و برادر وغیرہ کو اس امر کی خبر ہو اور وہ چشم پوشی کرکے ان کو منع نہ کریں تو ان کی امامت کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے ؟ امید کہ قول مفتی بہ بحوالہ کتب تحریر فر ماکر مشکور فرمائیں۔
الجواب:
یہ سخت شدید گناہ کبیرہ ہے اور فاعل ومفعول بھی اگر بالغ وغیر مجبور ہوں فاسق ہیں ان کی یہ حالت اگر صحیح طور پر معروف مشہور ہو یا وہ خود اقرار کرتے ہوں جس طرح یہاں زید کا اقرار مذکور ہے نہ صرف قیاسات وسوسے ظن جن کا شرع میں اعتبار نہیں بلکہ ان وجوہ پر کبیرہ کی نسبت کرنے والے خود ہی مرتکب کبیرہ ہوتے ہیں اﷲ عزوجل فرماتے ہیں:
|
لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوۡہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا ۙ [1] |
کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا کہ مومن مردوں اور خواتین نے اپنوں پر نیك گمان کیا ہوتا ۔ (ت) |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث [2]۔ |
بدگمانی سے بچا کر و کیونکہ بدگمائی سب سے بڑا جھوٹ ہے الحدیث (ت) |
اس پر لحاظ و کار روائی جائز نہیں بلکہ وجہ صحیح شرعی سے ثابت ومعروف ہو تو فاسق معلن ہیں ان کو امام بنانا گنا ہ ، ان کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب ، اور اگر ثبو ت شرعی واقرا ر معروف نہ ہو مگر لوگوں میں افواہ اڑگئی ہو جن کے سبب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع