30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
علمائے کرام نے جو خاص تخمینے جہت قبلہ کے لئے ارشاد فرمائے وہ خاص اپنے بلاد کے لئے ہیں نہ کہ حکم عام ، و لہذا وہ تخمینے بہت مختلف آئے ہیں جن کا بیان ہمارے رسالہ ھدایۃ المتعال فی حدالاستقبال میں ہے ۔
علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں اسی عبارت تجنیس الملتقط کی نسبت فرمایا انما یصح فی بعض البقاع[1] ( یہ قاعدہ بعض جگہوں میں صحیح و درست ہے۔ت)خیرآباد جس کا عرض شمالی ستائیس ٢٧ درجے اکتیس٣١ دقیقے اور گرینچ سے مشرقی اسی ٨٠ درجے اڑتالیس دقیقے ہے اس کا قبلہ تقریباً ٹھیك نقطہ مغرب الاعتدال ہے یعنی وسط مغربین صیف و شتا وسط حقیقی سے جنوب کی طرف ایك خفیف مقدار جھکا ہوا پاؤ درجہ تك بھی نہیں پہنچتی نہ وہ محسوس ہونے کے قابل ہے۔
|
وذلك لان عرض مکۃ المکرمۃ شرفھا اﷲ تعالٰی کاحہ الہٰ وطولھا محہ ی فما بین الطولین م حہ لح :.لوظل عرض مکۃ٥٩٣٥٤٢٣ء٩-لوجم مابین الطولین ٨٨٠١٨٠٢ء٩=٧١٣٣٦٢٠ء٩قوسہ فی جدول الظل حہ لط نہ لو جمھا ٩٤٨٥٨٩٦ء٩-،محفوظ اول ،ثم فضل عرض البلد علی ھذہ القوس ماقہ لوجمھا بالتدفیق٥٠٨٣٩٥٨ء٧-محوظ ثانی، فلوظل مابین الطولین ٩٣٣٥٤٤٦ء٩+ محفوظ-محفوظ ثانیا = ٧٣٧٢٨٤ء١٢ قوس ھذاالظل فسط حہ مہ الو-ھوالانحراف الی نقطۃ المغرب من نقطۃ الجنوب لان عرض البلد الشمالی اکثر من القوس المذکورۃ فالانحراف من المغرب الاعتدال الی الجنوب مدقہ لح وھوالمقصود۔ |
یہ اس لئے ہے کہ مکہ مکرمہ ( اﷲ اسکی بزرگی میں اضافہ فرمائے)کا عرض مثلاً کاحہ الہٰ ئہو اور اسکا طول م حہ ی ہو تو دونوں طولوں کے درمیان م حہ لح ہوگا کہ :. اگر ظل عرض مکہ٥٩٣٤٥٢٣ء٩-لو جم جو دونوں طولوں کے درمیان ہے ٨٨٠١٨٠٢ء٩=٧١٣٣٦٢٠ء٩ہے جس کا قوس جدول میں حہ لط نہ ہو ا اسکا لوجم ٩٤٨٥٨٩٦ء٩ ہے یہ محفوظ اول ہے۔ پھر اس قوس پر عرض بلد زائد ہوگا جو مانہ ہے جس کا لوجم بالتد قیق ٥٠٨٣٩٥٨ء٧ہے یہ محفوظ ثانی ہے، پس اگر ظل"جو دونوں طولوں کے درمیان ہے"٩٣٣٥٤٤٦ء٩+محفوظ اول-محفوظ ثانی =٣٧٣٧٢٨٤ء١٢ ہے اس ظل کا قوس فسط مہ حہ لو ہے اور یہ نقطہ جنوب سے نقطہ مغرب کی طرف انحراف ہے کیونکہ بلد شمالی کا عرض قوسِ مذکورہ سے زائد ہے پس مغربِ اعتدال سے جنوب کی طرف انحراف مدقہ لح ہے اور یہی مقصود ہے۔ت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع