30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کوئی غدر نہیں کو اگر تو نے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ قبول فرمانے والا ہے نیز اسی سنیت حنفیت کا اظہار کرتے ہوئے اگر وہ مرجائے گا ہم اس کے جنازہ کے ساتھ وہ طریقہ برتیں گے جو ایك سنی حنفی کے ساتھ کیا جاتا ہے لان انما نحکم بالظاھر واﷲ تعالٰی اعلم بالسرائر( کیونکہ ہم ظاہر پر حکم لگانے کے پابند ہےں، دلوں کا حال اﷲ ہی جانتا ہے ۔ت) مگر اس قبول توبہ سے یہ لازم نہیں کہ ہم ایسے مضطرب شخص ایسے مشکوك حالت والے کو اپنے ایسے ہم فرض دینی کا امام بھی بنالیں اگر واقع میں وہ سچے دل سے تائب ہوا ہے تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی اور اگر امامت لینے کے لئے توبہ ظاہر کرتا ہے تو وہ نماز باطل وفاسد ہوگی اور اس کی حالت شك ڈالنے والی اور نفع کی طمع اس کی تائید کرنے والی کسی طرح عقل سلیم و احتیاط کا مقتضا ہر گز نہیں کہ اسے امام کیا جائے وہ پیسہ کے معاملے میں گواہی کے لئے تو علمائے کرام یہ احتیاط فرماتے ہیں کہ فاسق اگر چہ توبہ کرلے اس کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تك ایك زمانہ اس پر نہ گزرے جس سے صدق توبہ وصلاح و تقوٰی کے آثار اس پر ظاہر ہوں کہ جب وہ فاسق ہے تو ممکن کہ اس وقت اپنی گوہی قبول کرادینے کے لئے توبہ کااظہار کرتا ہو فتاوٰی عالمگیری و فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
|
الفاسق اذاتاب لا تقبل شھا دتہ مالم یمض علیہ زمان یظھر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذلك مفوض الی راء القاضی [1]۔ |
فاسق اگر توبہ کرلے تو جب تك اتنا وقت نہ گزر جائے جس میں اس پر توبہ صدق کا اثر ظاہر ہو اس کی گواہی قبول نہ کی جائے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ معاملہ قاضی کی رائے کے سپرد کیا جائے ۔ (ت) |
بلکہ جو جھوٹ کے ساتھ مشہور ہے اس کی نسبت تصریح فرماتے ہیں کہ اس کی گواہی کبھی مقبول نہ ہوگی اگر چہ سو بار توبہ کرے ۔ بدائع امام ملك العلماء ابو بکر مسعود کاسانی پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
|
والمعروف بالکذب لا عدالۃ لہ فلا تقبل شہادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب [2]۔ |
جو جھوٹ میں مشہور ہو وہ عادل نہیں ہوسکتا اس کی ہمیشہ گواہی قبول نہ ہوگی اگر چہ وہ تائب ہو جائے بخلاف اس شخص کے جس سے جھوٹ سہوًا سرزد ہوا ہو یا وہ جھوٹ میں کسی ایك دفعہ مبتلا ہواہو پھر اس نے توبہ کرلی ہو ۔ (ت) |
جب دو پیسے کے مال میں یہ احتیاطیں ہیں تو نماز کہ بعد ایمان اعظم ارکان دین ہے اس کے لئے کس درجہ احتیاط واجب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع