30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے مقر کرنا اصلا معتبر نہیں ہوسکتا نہ حالت مذکور میں کہ قوم بروجہ شرعی اس سے کراہت رکھتی ہے خود اسے امام بننا نا جائز ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ثلثۃ لا ترفع صلاتھم فوق اذانھم شبرا وعدمنھم من ام قوما وھم لہ کارھون [1]۔ |
تین آدمیوں کی نماز ان کے کانوں سے ایك بالشت بھی اوپر نہیں جاتی ( یعنی بارگاہ عزت میں رسائی تو بڑی چیز ہے) ان میں ایك شخص ہے جو کچھ لوگوں کی امامت کرے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ (ت) واﷲ تعالیٰ اعلم |
مسئلہ ٦٩٦: از کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد سہ منارہ ٢٠ ربیع الاول شریف ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عالم ہے یعنی علم فقہ وحدیث بخوبی جانتے ہیں مگر عالم موصوف بائیں پیر سے مجبور ہیں جس کو لنگڑا کہتے ہیں زمین میں پَیر مذکورکا فقط انگشت لگاسکتے ہیں اور دہنا پیر درست ہے قیام ، رکوع ، سجود بخوبی کرسکتے ہیں، یہ عالم مذکور پانچ وقتی نماز کی امامت کرسکتے ہیں اگر چہ عالم دیگر مودجو ہو یا نہیں؟ باعبارت و دلائل کے تحریر فرمائیں کہ سامعین کو کسی قسم کا شبہ نہ رہے ۔ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ایسے شخص کی امامت بلا شبہ جائز ہے پھر اگر وہی عالم ہے تو وہی زیادہ مستحق ہے اس کے ہوتے جاہل کی تقدیم ہر گز نہ چاہئے اور اگر دوسرا عالم بھی موجود ہے جب بھی اس کی امامت میں حرج نہیں مگربہتر وہ دوسرا ہے ، یہ سب اس صورت میں کہ دونوں شخص شرائط صحت وجواز امامت کے جامع ہوں صحیح خواں صحیح الطہارۃ سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ورنہ جامع شرائط ہوگا وہی امام ہوگا ۔ درمختار میں ہے:
|
صح اقتداء قائم باحدب وان بلغ حد بہ الرکوع علی المعتمد وکذا باعرج وغیرہ اولٰی[2]۔ واﷲ تعالیٰ اعلم |
مختار قول پر سیدھا کھڑے ہونے والے کی نماز کبڑے شخص کے پیچھے درست ہے اگر چہ اس کا کُبڑا پن رکوع کی حد تك ہو، اسی طرح لنگڑے کا حکم ہے، البتہ دوسرے آدمی کی امامت افضل و اولیٰ ہے ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع