30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکوٰۃ دینے میں بعض نے اجازت لکھی ہے اور صحیح و معتمد ظاہر الروایہ عدم جواز کما بیناہ فی الزھر الباسم( جیسا کہ ہم نے اس کو الزہر الباسم میں بیان کیا ہے ۔ ت) واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٦٩٢ تا٦٩٤: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتا ہو اوروہ حسب ہدایت گناہ سے باز آکر اکمل الفضلاء دین واسلام کے رو برو توبہ کرے اور اس گناہ سے بفضلہ تعالیٰ نجات پائے تو کیا اس کا ایما ن کامل ہوا؟
(٢) اس کی امامت جائز ہے؟
(٣) جو لوگ بعد توبہ اس پر اعتراض کریں ان کے واسطے کیا حکم ہے؟ فقط
الجواب :
اﷲ عزوجل توبہ قبول فرماتا ہےوَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ[1] ( وہ اﷲ تعالیٰ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔ ت)
اور سچّی توبہ کے بعد گناہ بالکل باقی نہیں رہتے ۔ حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ [2]۔ |
گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے۔ |
توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلًا حرج نہیں، بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں۔ حدیث میں ہے بنی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ و فی روایۃ من ذنب قد تاب منہ [3]، بہ فسرا بن منیع ، رواہ الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
جو کسی اپنے بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگائے جس سے توبہ کرچکاہے تو یہ عیب لگانے والا نہ مرے گا جب تك خود اس گنا ہ میں مبتلا نہ ہوجائے اس کو ترمذی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کر کے حسن قرار دیا ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم |
مسئلہ ٦٩٥: از میر ٹھ چھاؤنی ویلر کلب مرسلہ عمر بخش خانساماں ٤ ربیع الاول شریف ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص عرصہ چند سال سے امام مسجد رہ کر ببا عث
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع