30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ختم قرآن مجید کے اپنے پاس سے خواہ چندہ سے بخوشی اپنے شیرنی تقسیم کرنا جائز ہے یا بدعت ؟اور ایسے شخص جو قیام کامنکراور جو تراویح کے بعد ختم قرآن مجید کی شیرنی کا تقسیم کرنا بدعت سمجھتا ہوا ور ناجائز کہتا ہو اس کے پیچھے نماز کی اقتداء کرنا بروئے مذہب حنفی کیا ہے ؟ ایسے امام کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے یا نہیں یا کیا ہے ؟ فقط
الجواب:
قیام وقت ذکر ولادت حضور سید الانام علیہ و علی آلہ ٖ افضل الصلاۃوالتسلیم جس طرح حرمین طیبین و مصر و شام و سائر بلاد اسلام مین رائج ومعمول ہے ضرور مستحسن ومقبول ہے۔ علامہ سید جعفر برزنجی رحمۃ اﷲ تعالیٰ جن کا رسالہ میلاد مبارك حرمین طیبین و دیگر بلاد عرب وعجم میں پڑھاتا جاتا ہے اس رسالہ میں فرماتے ہیں:
|
قد استحسن القیام عند ذکر مولد الشریف صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ائمۃ ذووروایۃ ودر ایۃ فطوبٰی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ[1]۔ |
بے شك ذکر ولادت اقدس کے وقت قیام کرنا ان امامو نے مستحسن جانا جو اصحاب روایت و ارباب درایت تھے تو خوشی اور شادبانی ہو اس کے لئے جس کی نہایت مراد و غایت مقصود محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم ہو۔ (ت) |
یہاں آج کل اس قیام مبارك کو بدعت و ناجائز کہنے والے حضرات وہابیہ ہیں خذ لھم اﷲ تعالٰی ( اﷲ تعالیٰ انھیں خوار کرے ۔ ت) اور وہابیہ زمانہ اب بدعت وضلالت سے ترقی کرکے معراج کفر تك پہنچ چکے ہیں بہر حال ان کے پیچھے نماز ناجائز اور انھیں امام بنانا حرام ، یوں ہی ختم قرآن عظیم کے وقت مسلمانوں میں شیرینی کی تقسیم بھی ایك امر حسن ومحمود ہے اسے بدعت بتانا انھیں اصول ضالہ وہابیت پر مبنی ہے اﷲ عزوجل نے تو وجوب و ممانعت کی یہ معیار بتائی تھی:
|
وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ[2]۔ |
رسول جس بات کا تمھیں علم دیں وہ اختیار کرو اور جس بات سے منع فرمائیں باز رہو۔(ت) |
مگر وہابی صاحبو ں نے معیا ر ممانعت یہ رکھی ہے کہ جسے ہم منع کر دیں اسے بچو اگر چہ اﷲ ورسول نے کہیں منع نہ فرمایاہو، غرض یہ اس کا شرك فی الرسالت ہے اس کے پیچھے ہر گز نماز پڑھی نہ جائے ، والعیاذ باﷲ تعالی رب العالمین ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع