30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں حرج نہیں کما فی الدرلمختار( جیسا کہ درمختار میں ہے ۔ ت) وہ اگرقابل امامت ہو تو اس کی امامت میں مضائقہ نہیں۔
(٢)امام صف سے اتنا آگے کھڑاہو کہ جو مقتدی اس کے پیچھے ہے اس کا سجدہ بطور مسنون بآسانی ہوجائے بلا ضرورت اس سے کم فاصلہ رکھنا جس کے سبب مقتدیوں کو سجدہ میں تنگی ہو منع ہے یوں ہی فاصلہ کثیر ، عبث چھوڑنا خلاف سنت مؤکدہ ہے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ٦٨٢: سرکڑہ ضلع مراد آبادمسئولہعبدالعزیز صاحب ٥ محرم الحرام ١٣٣٢ھ
(١) باپ نے بیٹے کو عاق کردیا اور پھر اس کی خطا معاف بھی کردی تو اس کی خطا معاف ہوئی یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟
(٢)اگر کسی شخص سے چار جمعہ حالت مرض میں پے در پے ساقط ہوگئے تو پانچویں جمعہ میں نماز اس کے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
ہاں اگر وہ باپ کی نافرمانی اور باپ کو ناراض کرنے سے باز آیا اور سچے دل سے توبہ کی توخطا معاف ہوگئی اور اب اس کے پیچھے نماز جائز ہوجائے گی۔ اور اگر وہ نافرمانی وایذائے پدر سے باز نہ آیا تو ضرور سخت اشد فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی، جس کا پھیرنا واجب ہے اور اسے امام بنانا گناہ اگر چہ باپ اپنی مہربانی سے ہزار بار خطا معاف کردے کہ یہ صرف باپ کی خطا نہیں اﷲ اﷲ عزوجل کابھی گناہ اور سخت گناہ شدید کبیرہ ہے ، تو فقط باپ کے معاف کئے کیونکر معاف ہوسکتا ہے ۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
(٢) اگر مرض ایسا تھا کہ قابل حاضری جمعہ نہ تھا تو اس پر کچھ الزام نہیں، اور اگر حاضر ہوسکتا تھا اور کاہلی اور بے ہمتی سے نہ آیا تو فاسق ہے اسے امام کرنا گناہ ہے واﷲ تعالیٰ اعلم
مسئلہ ٦٨٤: از بیتھو ضلع و ڈاکخانہ بیتھو مرسلہ حکیم رضا حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ولد الزنا کا نکاح صحیح ہوا اور اس سے اولاد ہوئی تو اس اولاد کے پیچھے اقتدا درست ہے یا نہیں۔ فقط
الجواب:
ولدالزنا کا بیٹا کہ نکاح صحیح سے پیدا ہوا ولد الزنا نہیں اس کے پیچھے نماز میں کچھ کراہت نہیں۔ ہاں اگر اہل جماعت اس سے نفرت کریں او راس کے باعث جماعت کی تقلیل ہو تو اسے امام نہ کیا جائے اگر چہ وہ خود بے قصور ہے جیسے معاذاﷲ برص وجذام والے کی امامت مکروہ ہے جبکہ باعث تنفیر جماعت ہو اگر چہ مرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع