30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کرہ ذلك تحریما وان ھو احق لا والکراھۃ علیھم [1] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
|
اس بنا پر کہ دوسرے لوگ اس سے امامت کے زیادہ حقدار تھے دونوں صورتوں میں اس پر کراہت تحریمی ہوگی اگر وہ خود امامت کا زیادہ حقدار تھا تو اس پر کوئی کراہت نہ ہوگی اور لوگوں پر کراہت ہوگی۔ (ت) |
مسئلہ ٦٦٧: ١٣٣١ہجری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امام مسجد ہے اور وہ فاتحہ و علم غیب وغیرہ سے منکر ہے بلالکہ سجدہ میں اور رکوع میں تسبیح اس قدزور سے کہتا ہے کہ اگلی صف والے بخوبی سن لیتے ہیں اور پیچھے والے بھی سن لیتے ہیں اور ایسے مقام پر کوئی دوسرا امام میسر نہیں آتا تو اس حالت میں کس طرح باجماعت نماز پڑھی جائے کہ ثواب جماعت کا ہو اور نماز میں بھی کوئی نقص نہ ہونے پائے۔
الجواب:
اگر علم غیب بعطائے الہی کثیر و وافر اشیاء وصفات واحکام وبرزخ ومعاد واشراط ساعت وگزشتہ وآئندہ کا منکر ہے تو صریح گمراہ بددین ومنکر قرآن عظیم واحادیث متواترہ ہے اور ان میں ہزاروں غیب وہ ہیں جن کا علم حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ملنا ضروریات دین سے ہے اور ضروریات دین کا منکر یقینا کافر، یوں ہی تلبیسی طور پر بعض کااقرارکرتا اور وہابیہ کا اعتقاد رکھتا ہے تو گمراہ بد دین ہے اور جو خاص دیو بندی عقائد پر ہو وہ کافر ومرتد ہے، یوں ہی جو ان عقائد پر اپنا ہونا نہ بتائے مگر ان لوگوں کے عقائد کفر یہ پر مطلع ہو کر ان کو اچھا جانے یا مسلمان ہی سمجھے جب بھی خود مسلمان نہیں ، درمختار و مجمع ا لانہر و بزازیہ وغیر ہما میں ہے:من شك فی کفرہ فقد کفر [2]( جس نے اس کے کفر میں شك کیا وہ خود کافر ہوگیا ۔ ت) ہاں اگر تمام خباثتوں سے پاك ہواور علم غیب کثیر ووافر بقدر مذکور پر ایمان رکھے اور عظمت کے ساتھ اس کا اقرار کرے صرف احاطہ جمیع ماکان وما یکون میں کلام کرے اور ان میں ادب وحرمت ملحوظ رکھے تو گمراہ نہیں صرف خطا پر ہے مگر آج کل یہاں فاتحہ کاانکار خاص وہابیہ ہی کا شعار ہے اور وہابیہ اہل ہواسے ہیں اور اہل ہوا کے پیچھے نماز ناجائز ہے، فتح القدیر میں ہے:
|
لاتجوز الصلاۃ خلف اھل الاھواع[3]۔ |
اہل ہوا کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع