30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المؤمنین ان کنت ترید قتلی فاقتلنی قتلا جمیلا وان کنت ترید تداوینی فقد واﷲ برئت فاذن لہ الی ارضہ وکتب الی ابی موسیٰ الشعری ان لایجالسہ احد من المسلمین فاشتد ذلك علی الرجل فکتب ابو موسیٰ الشعری الی عمر ان قد حسنت توبتہ ، فکتب ان یاذن للناس فی مجالستہ ١[1]۔ |
اے امیر المؤمنین ! اگر آپ مجھے قتل کرنا ہی چاہتے ہیں تو بہتر انداز میں قتل کیجئے اور اگر میرا علاج فرمارہے ہیں تو اﷲ کی قسم اب میں درست ہوں، آپ نے اسے اپنے علاقے میں جانے کی اجازت دے دی اور ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ اسے مسلمانوں کی کسی مجلس میں نہ بیٹھنے دو۔ اس شخص پر یہ معاملہ گراں گزرا حتیٰ کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر کی طرف خط لکھا کہ آپ نے اس کی توبہ درست کردی ہے، تو حضرت عمر نے لکھا کہ اب لوگ اسے اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دیں،۔ (ت) |
بلالکہ اگر اس کا مکر و زور وکذب وفریب ظاہر ومشہور ہو تو بعد توبہ بھی کبھی امام نہ کریں کہ اسے امام کرنا کچھ ضرور نہیں اور معروف کذاب کی توبہ پر ہمیں اعتبار کا کیا ذریعہ ہے خصوصًا روافض خذ لہم اﷲ تعالیٰ کہ تقیہ ان کا اصل مذہب اور اس کی بنیاد کا سب سے پہلا پتھر ہے خصوصًا جہاں نوکری وغیرہ کی طمع یا کسی خوف کا قدم درمیان ہو ۔امام ملك العلماء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ کی کتاب بدائع پھر فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
المعرف بالکذب لاعدالۃ لہ فلا تقبل شھادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سھوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب ٢[2] اھ ونسال اﷲ حسن التوبۃ والعفو والعافیۃ۔ |
جو شخص جھوٹ بولنے میں مشہور ہو اس کی عدالت ثابت نہیں لہٰذا اس کی شہادت کبھی قبول نہ کی جائے اگر چہ اس نے توبہ کرلی ہو بخلاف اس شخص کے جس نے سہوًا یا وقت مجبوری کبھی ایك دفعہ جھوٹ بولا ہو اور پھر توبہ کرلی ہو اھ ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ سے حسن توبہ، معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں (ت) |
بعینہٖ یہی حکم وہابیت دیوبند یہ کا ہے کہ وہ بھی مثل رفض زمانہ ارتداد مبین اور اس کے اصاغر مثل روافض تقیہ گزیں تو جسے دیکھیں کہ ان لوگوں سے میل جول رکھتا ، ان کی مجالس وعظ میں جاتا ہے ، اس کا حال مشتبہ ہے ہر گز اسے امام نہ کریں اگر چہ اپنے کو سنی کہتا ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع