30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واخرج الدرامی ونصرو الاصبہا نی کلاھما فی الحجۃ وابن الانباری فی المصاحف واللالکائی فی السنۃ وابن عساکر فی التاریخ عن سیلمٰن ابن یساران رجلا من بنی تمیم یقال لہ صبیغ بن عسل قدم المدینۃ وکان عندہ کتب فکان یسئل عن متشابہ القران فبلغ ذلك عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فبعث الیہ وقد اعد لہ اعراجین النخل فلمادخل علیہ قال من انت قال انا عبد اﷲ صبیغ قال عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وانا عبداﷲ عمر واومأ الیہ فجعل یضربہ بتلك العراجین فما زال یضربہ حتی شجہ وجعل الدم یسیل علی وجہ ، فقال حسبك یا امیرالمؤمنین واﷲ فقد ذھب الذی اجد فی راسی ١[1] واخرج الدارمی و ابن عبدالحکیم وابن عساکر من مولی ابن عمر ان صبیغ العراقی جعل یسئل عن اشیاء من القران فی اجناد المسلمین (وساق الحدیث الی ان قال ) فارسل عمر الیّ یطلب الجرید فضربہ بھا حتی ترك ظھرہ دبرۃ ثم ترك حتی بری، ثم عادلہ ثم ترکہ حتی بری، ثم دعابہ لیعود بہ فقال صبیغ یا امیر |
کو قبول کرو۔دارمی، نصر اصبہانی دونوں نے حجہ میں اور ابن انباری نے مصاحف میں ، لالکائی نے سنت میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں سیلمان بن یسار سے روایت کیا کہ بنو تمیم کا ایك شخص تھا جس کا نام صبیغ بن عسل تھا وہ مدینہ آیا اس کے پاس کچھ کتب تھیں وہ قرآن کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا اس بات کی اطلاع حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنچی تو آپ نے اسے بلایا اور اس کے لئے کھجور کی دو چھڑیاں تیار کیں، آیا تو آپ نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں اﷲ کا بندہ صبیغ ہوں۔ آپ نے فرمایا : میں اﷲ کا بندہ عمر ہوں، اس کے بعد اپ نے اس کی طرف اشارہ کیا اور ان دو چھڑیوں کے ساتھ اسے مارا حتی کہ وہ زخمی ہوگیا اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ وہ کہنے لگا اے امیر المؤمنین ! مجھے چھوڑ دو یہی کافی ہے اﷲ کی قسم جو کچھ میرے دماغ میں (خمار) تھا وہ جاتا رہا۔اور دارمی، ابن عبدالحکیم اور ابن عساکر نے حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام سے بیان کیا کہ صبیغ عراقی مسلمانوں کے مختلف گروہوں سے قرآن کی بعض اشیاء کے بارے میں سوال کرتا تھا ( آگے چل کر کہا) حضرت عمر نے مجھ سے چھڑی منگوائی اور اسے پیٹا حتی کہ اس کی پشت کو زخمی چھوڑدیا پھر مارا پھر چھوڑ دیا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا، پھر آپ نے دوبارہ اس کو مارا حتی کہ وہ صحیح ہوگیا ]پھر آپ نے اسے بلایا تاکہ پھر اس کی پٹائی کی جائے ، تو اس نے کہا
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع