30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب سنت ومکروہ کے تردد میں ترك سنت کی علم ہو ا تو جائز وحرام قطعی کے تردد میں وہ جائز کیوں نہ واجب الترك ہوگا۔
دلیل دوم علماء فرماتے ہیں کہ جب کسی بات کے واجب و بدعت ہونے میں تردد ہو توترك نہ کی جائے ۔ فتح وحلیہ و بحر وردالمحتار وغیرہ میں ہے:
|
واللفظ لھذا فی النوافل قد تقرر ان مادار بین وقوعہ بدعۃ اوواجبا لا یترك [1]۔ |
بیان نوافل میں اس ( ردالمحتار) کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ بات مسلمہ ہے جس کام کا وقوع بدعت اور واجب کے درمیان متردد ہو تو اسے ( یعنی واجب کو ) ترك نہیں کیا جائے گا ۔ (ت) |
ظاہر ہے کہ یہ شخص سنی ہو تو اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کرنا کچھ بدعت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے معزول کرنا فرض قطعی جب بدعت و واجب کے تردد میں فعل ضروری ہوتاہے تو جائز و فرض قطعی کے تردد میں اسے معزول کرنا کیوں نہ اشد ضروری ہوگا۔
دلیل سوم: شرع مطہر کا قاعدہ مقرر ہے کہا اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام [2]۔ جب ایك چیز میں حلت وحرمت دونوں وجہیں جمع ہوں توغلبہ حرمت کورہے گا اور وہ شے حرام سمجھی جائے گی ۔ کما فی الاشباہ والنظائر( جیسا کہ اشباہ والنظائر میں ہے۔ت) یہ سنی ہو تو امامت حلال اور رافضی ہو تو حرام ، تو غلبہ حرمت ہی کو دیا جائےگا۔
دلیل چہارم: عبادات میں احتیاط مطلقًا واجب ہے نہ کہ نماز کہ اہم واعظم عبادات ہے جس کے لئے علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کی صحت و فساد میں اشتباہ پڑے ایك وجہ سے فاسد ہوتی ہو اور متعدد وجوہ سے صحیح تو اس ایك ہی وجہ کا اعتبار کر کے اس کے فساد ہی کا حکم دیں گے ، فتح القدیر صلاۃ المسافر میں ہے:
|
ھذہ مسائل الزیادات ، مسافر ومقیم ام احد ھما الاخر فلما شرعا شکافی الامام استقبلا لان الصلوۃ متی فسدت من وجہ وجازت من وجوہ حکم بفسادھا وامامۃ المقتدی مفسدۃ، واحتمال کون کل منھما |
یہ مسائل زیادات کے ہیں مسافر اور مقیم میں سے ایك نے دوسرے کی امامت کی جب دونوں نے نماز شروع کی تو انھیں امام کے بارے میں شك ہوگیا کہ میں امام ہوں یا دوسرا تو نماز نئے سرے سے ادا کریں کیونکہ نماز جب ایك جہت سے فاسد اور کئی وجوہ کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع