30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاس ہے اور ان کی خاص مجلسوں میں جاتے بھی اسے دیکھا اور اس سے توبہ کو کہا جائے تو توبہ بھی نہیں کرتا اور حالت اس کی یہ ہے کہ رافضیوں میں رافضی، سنّیوں میں ُسنی اور اسے بعض لوگوں نے اپنے لڑکوں کا معلم اور مسجد کا امام مقرر کیا ہے اس صورت میں اس کا اور اس کے مقرر کرنے والوں کا کیا حکم ہے اور اس کامعزول کرنا بوجہ شبہ کے واجب ہے یا نہیں اگر ہے توکس دلیل سے ، حالانکہ وہ اہلسنت کے سامنے کوئی بات عقیدہ روا فض کی زبان سے نہیں نکالتا اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس کے بعد بھی رکھا جائے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ ثابت و محقق ہو کہ رافضیوں رافضی اور سنیوں میں ،ُسنی بنتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی اور اس کے پیچھے نماز باطل محض، جیسے کسی یہودی نصرانی ہندو مجوسی کے پیچھے کما بیناہ فی النھی الا کید ( جیسا کہ ہم نے اسے النہی الاکید میں بیان کیا ہے۔ ت) بلالکہ تبرائی روافض زمانہ ان سے بھی بدتر ہیں کہ وہ کافران اصلی ہیں اور یہ مرتد ، اور مرتد کا حکم سخت تر و اشد کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ( اس کی تحقیق ہم نے اپنے مقالے مسفرہ میں کی ہے۔ ت) اور اگر صرف اسی قدر ہو کہ اس کی حالت مشکوك و مشتبہ ہے جب بھی اسے امامت سے معزول کرنا بدلائل کثیرہ واجب ہے۔
فاقول: وبا ﷲ التوفیق ( پس میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں)
دلیل اول: علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب کسی امر کے بدعت وسنت ہونے میں تردد ہوتو وہاں سنت ترك کی جائے ۔ بحرالرائق پھر ردالمحتار مکروہات الصلاۃ میں ہے:
|
اذا تردد الحکم بین سنۃ وبدعۃ کان ترك السنۃ راجحا علی فعل البدعۃ [1] ۔ مختصرًا |
جب حکم سنت اور بدعت کے درمیان متردد ہو تو بدعت پر عمل کی بجائے ترك سنت راجح ہے (ت) |
المحیط پھر فتح القدیر اواخر سجودالسہو میں ہے:
|
ما تردد بین البدعۃ والسنۃ ترکہ لان ترك البدعۃ لازم واداء السنۃ غیر لازم ٢[2]۔ |
جب بدعت اور سنت کے درمیان تردد ہو تو سنت کو ترك کردیا جائے کیونکہ ترك بدعت لازم اور اداء سنت غیر لازم ہے ۔ (ت) |
ظاہر ہے کہ اگر یہ شخص واقع میں سُنی ہو تو خاص اسی کو امام کرنا کچھ سنت بھی نہیں اور رافضی ہو تو اسے امام کرنا حرام قطعی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع