30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جہالت کے ساتھ کرتا ہے ۔ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ اس کی عورت کی کلائیں کھولے باہر پھرتی دکان کرتی ہے یا گرمیوں میں باریك کپڑے پہنے نکلتی ہے جن سے بدن چمکتا ہے اور اس کا شوہر ان احوال سے واقف ہو کر حسب مقدور کامل بندوبست نہیں کرتا تو وہ دیوّث ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا اور اسے امام بنانا گناہ ہے اور اگر وہ عورت کو ہدایت بھی کرے اوراس الزام سے توبہ کرکے پاك ہوجائے تو اس حالت میں بھی جبکہ وہ قرآن مجید ایسا غلط پڑھتا ہو جس سے نماز فاسد ہوتی ہے تو اس کی امامت بلکل باطل ہے اور اس کے پیچھے نماز اصلًا نہ ہوگی مگریہ الزام وہی لگا سکتے ہیں جو خود صحیح پڑھتے ہوں ور نہ ان کی خود بھی نماز نہیں ہوسکتی وہ سب ایك سے ہوئے، ان سب پر فرض ہے کہ حرفوں کی اتنی صحت کرلیں جس سے نماز صحیح ہوجائے ، جب تك ایسا نہ کریں گے ان سب کی نماز باطل ہوگی اور اگر غلطی وہ ایسی نہیں کرتا جس سے نماز فاسد ہو اور اس کے سوا اور کوئی صحیح پڑھنے والا وہاں نہیں تو لازم ہے کہ وہی امام کیا جائے اور بہرا ہونے کی پروا نہ کی جائے جبکہ وہ عورت کا بندوبست کرلے اور اگر اور بھی صحیح العقیدہ وغیرہ فاسق صحیح پڑھنے والا وہاں موجود ہے تو یہ اگر چہ صحیح بھی پڑھے اور عورت کا بندوبست بھی کرلے اس دوسرے صحیح خواں کی امامت اولیٰ ہوگی کہ جب یہ ایسا بہرا ہے کہ تکبیر کی آواز نہیں سنتا تو نماز میں اگر اس سے کہیں بھول یا غلطی واقع ہوئی مقتدیوں کا بتانا نہ سنے گا واﷲ تعالیٰ اعلم وعلمہ وجل مجد ہ ا تم واحکم
مسئلہ ٦٥٩: از بھیکن پور ضلع علی گڑھ مرسلہ جعفر علی صاحب ٢٤ ربیع الاول ١٣٢٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین بیچ امامت اس شخص کے کہ جو صرف حفظ قرآن وفارسی خواں ہو اور ایك مسجد کا امام تنخواہ دار لیکن بازار میں مسلمان سے لڑتا شور مغلظات الفاظ زبان پر لاتا ہو اور کبھی مسجد میں مؤذن سے سخت کلامی اور اس کی حسب ونسب پر مجمع مقتدیان میں الزام لگاتا ہو امؤذن و بعض مقتدیوںسے عرصہ سے کدورت وکینہ رکھتا ہو تنبیہ کرنے پر مقتدیوں پر الزام لگاتاہو کہ تم میری غیبت کرتے اور میری روزی چھیننے کی کوشش کرتے ہو اور اپنے قصور کا ہنوز اعتراف نہ کرتا ہو اور مؤذن سے سلام علیك ترك کردی ہو ایسے امام کی اقتداء بلا کراہت جائز ہے یا کچھ کراہت ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :
مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وبغض رکھنا حرام ہے اور بلا مصلحت شرعیہ تین دن سے زیادہ ترك سلام و کلام بھی حرام ہے ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرمائے ہیں:
|
لا تبا غضوا ولاتحا سدوا ولا تدابروا وکونوا عباداﷲ اخوانا[1]۔ |
بغض نہ رکھو، حسد اور غیبت نہ کرو اور اﷲ کے بندے بن کر بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع