30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مدۃ تزید علی ثلث سنوات ولہ جار بجانبہ والرجل المذکوریتصرف فی البیت المذبور ھدما وعمارۃ مع اطلاع جارہ علی تصرفہ فی المدۃ المذکورۃ تسمع دعواہ ام لا اجاب لا تسمع دعواہ علی ما علیہ الفتوی[1]۔ |
گھر ہے وہ اس میں تین سال سے زائد عرصہ سے قیام پذیر ہے اور اس کی ایك جانب پڑوسی بھی ہے مذکورہ شخص اس گھرمیں گرانے اور بنانے ہرطرح کا تصرف کرتا ہے اور مدّت مذکورہ میںاس کا پڑوسی اس کے تصرف سے آگاہ بھی ہے توکیا اس کا دعوٰی قابل سماعت ہوگا یا نہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مفتی بہ قول کے اس کا دعوٰی قابل سماعت نہیں۔(ت) |
اسی میں ہے :
|
مجرد الاطلاع علی التصرف مانع من الدعوی[2]۔ |
تصرف پر محض اطلاع ہی دعوٰی سے مانع ہوتی ہے ۔(ت) |
اور مجردسند اگرچہ مہری ہوکوئی حجّت شرعی نہیں، نہ ہرگز ثبوت میںپیش ہونے کے قابل ۔ فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
|
احضر صکًا فیہ خطوط العدول والقضاۃ الماضیین وطلب من القاضی القضاء بذلك الصك قالوا لیس للقاضی ان یقضی بذلك الصك لان القاضی انما یقضی بالحجۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار واما الصك فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط [3]۔ |
کسی شخص نے ایسا اشٹام پیش کردیا جس میں ماضی کے حکمران اور قاضیوں کے دستخط تھے اور قاضی سے اس اشٹام کے مطابق فیصلہ چاہا تو فقہاء کہتے ہیں کہ قاضی اس اشٹام کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ قاضی دلیل و حجّت کا پابند ہوتا ہے اور حجت گواہ یا اقرار کانام ہے، رہا معاملہ اشٹام کا وہ قابل حجت نہیں کیونکہ تحریر ایك دوسرے سے مشابہ ہوسکتی ہے۔(ت) |
اشباہ والنظائر میں ہے:لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ [4](تحریر پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے
[1] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار (افغانستان) ٢/٤
[2] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الدعوٰی حاجی عبدالغفاروپسران تاجران کتب ارگر بازار قندھار(افغانستان) ٢/٤
[3] فتاوٰی قاضی خان فصل فی دعوی الوقوف والشہادۃ علیہ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ٤/٧٤٢
[4] الاشباہ والنطائر ،کتاب القضاء ، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ، ١/٣٣٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع