30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورت یہ ہے کہ امام کے بارے میں کسی قسم کا علم نہ ہو(یعنی رعایت کا نہ عدمِ رعایت کا) تو اس صورت میں اس کی اقتداء مکروہ ہوگی۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر صاحب دوم میں کوئی امر مفسد نماز ہے مثلًا قرآن عظیم کی غلط خوانی بحدافسادمعنی یا اس خاص نماز کے وقتِ طہارت وغیرہا کسی شرطِ نماز یا شرطِ امامت کا فوت ، جب تو ظاہر ہے کہ اس کی امامت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔اب اگر صاحب اول میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہ ہو تو اس کی امامت میں حرج نہیں ،مگر بوجہ اجتماع امردیت وحسنِ صورت اولٰی یہ ہے کہ کسی اور صحیح العقیدہ صحیح خواں کو امام کریں جس میں اصلًا کوئی وجہ کراہت نہ ہو اور اگر صاحب اول میں کراہت تحریم ہے تو واجب کہ دونوں کو چھوڑیں اور کسی اورصالح امامت کی اقتداء کریں،اسی طرح اگر صاحب دوم میں کوئی امر موجب کراہت تحریم ہے مثلًا داڑھی حدِ شرع سے کم کرنا یا فرائض و شرائطِ نماز میں مذہب حنفی کی پروا نہ کرنا اگر چہ یہ دو٢ یا ایك بار اس کے افعال سے مشاہدہ ہوا ہو اور صاحب اول میں کوئی تحریم نہیں جب بھی یہی حکم ہے کہ صاحبِ اول سے بہتر امام نہ ملے تو اسی کو امام کرنا لازم اور دونوںمیں کوئی وجہ کراہت تحریم ہے تو دونوں کے سوا تیسرا امام پیدا کریں ،اور اگر صاحب دوم میں کوئی وجہ کراہت تحریم نہیں اور صاحب اول میں ہے تو حکم بالعکس ہوگا کہ اگر کوئی حنفی صالح امام نظیفہ ملے تواُسی کی اقتداء کی جائے ورنہ صاحب دوم ہی کے پیچھے پڑھیں جبکہ اُس کی عادت سے معلوم ہے کہ مذہب حنفی کی رعایت کا التزام رکھتا ہے یامعلوم ہوکہ اس خاص وقت میں جامع جملہ شرائط امامت مطابق مذہبِ حنفی ہے اور اگر دونوں میں کوئی کراہت تحریم نہیں تو اگر معلوم ہوکہ صاحب دوم خاص اس وقت شرائط حنفیہ ہے تواور کوئی حنفی صالح نہ ملنے کی حالت میں اُسی کی امامت اولٰی کہ اس تقدیر پر اس کی امامت بلاکراہت ہے اور اگر حنفی ہوتا تو افضل ہوتا اورصاحب اول میں بوجہ امردیت وحسن کراہت ہے اور اگر خاص اس وقت شرائط جامعیت معلوم نہیں اور عادت مراعاۃ معلوم نہیں تو اور کوئی امام نظیف نہ ہونے کی حالت میں صاحب اول ہی کو ترجیح چایئے کہ اب مذہب جمہور ومشرب منصور پر کراہت تنزیہ میں دونوں شریك ہوئے اورمخالف المذہب میں اس قدر زیادت ہے کہ اس کے پیچھے ایك قول پر مطلقًا نماز مکروہ تحریمی ہے اگرچہ مراعاۃ شرائط بھی کرے یہاں تك کہ اُس کی اقتدا پر تنہا نماز پڑھنے اور جماعت چھوڑنے کو بعض نے ترجیح دی۔ دالمحتار میں ہے :
|
خالفھم العلامۃ الشیخ ابراہیم البیری بناء علی کراھۃ الاقتداء بھم لعدم مراعاتھم فی الواجبات والسنن وان الانفراد افضل لولم یدرك امام مذہبہ وخالفھم ایضا العلامۃ الشیخ رحمہ اﷲ السندی تلمیذ ابن الھمام فقال الاحتیاط فی |
علامہ شیخ ابراہیم البیری نے ان حضرات کی اس بناء پر مخالفت کی ہے کہ ان کی اقتداء مکروہ ہے کیونکہ یہ واجبات وسنن میں رعایت نہیں کرتے اور اگر اپنے مذہب کا امام نہ ملے تو تنہا نماز پڑھنا افضل ہے۔امام ابن ہمام کے شاگردشیخ سندی رحمہ اﷲ تعالٰی نے بھی ان حضرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع