30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار تکرہ خلف مخالف کشافعی لکن فی وترالبحر ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ او عدمھالم یصح وان شك کرہ١[1] اھ وقد فصلنا القول فیہ فیما علی ردالمحتار۔ |
دُرمختار میں ہے مخالف مذہب کے پیچھے نماز مکروہ ہے مثلًا شافعی المسلك -------بحرالرائق کی وتر کی بحث میں یوں تفصیل ہے اگر مقتدی کو اس بات کا یقین ہو کہ شافعی المذہب دوسرے مسلك کی شرائط وارکان کی رعایت کرتا ہے تو اقتداء میں کراہت نہیں،اور عدم رعایت کایقین ہو تو اقتداء صحیح نہیں ہے اور اگر رعایت اور عدمِ رعایت میں شك ہوتو مکروہ اھ اس بارے میں ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں تفصیلًا گفتگو کے ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے :
|
قولہ فی وتر البحر الخ ھذا ھوالمعتمد لان المحققین جنحوا الیہ وقواعد المذہب شاھدۃ علیہ وقال کثیرمن المشائخ ان عادتہ مراعاۃ مواضع الخلاف جاز والا فلا، قولہ ان تیقن المراعاۃ ای فی الفرائض من شروط وارکان فی تلك الصلاۃ وان لم یراع فی الواجبات والسنن کماھوظاھر سیاق کلا م البحر وظاہر کلام شرح المنیۃ ایضا وفی رسالۃ الملّا علی قاری ذھب عامۃ مشائخنا الی الجواز اذاکان یحتاط فی موضع الخلاف والا فلاوالمعنی انہ یجوزفی المراعی بلاکراھۃ وفی غیرمعھا[2] اھ مختصرا |
ماتن کا قول فی وترالبحرالخ یہی قول معتمد ہے کیونکہ محققین کااس کی طرف میلان ہے اور قواعد مذہب بھی اسی پر شاہد ہیں اور کثیر مشائخ کا قول ہے اگر اس امام کی عادت موضع اختلاف میں رعایت کرنا ہو تو اقتداء جائز ورنہ جائز نہیں ،ماتن کا قول ان تیقن المراعاۃسے مراد یہ ہے کہ وہ فرائضِ نماز یعنی شروط و ارکان کی رعایت کرتا ہوا اگر چہ واجبات وسنن کی رعایت نہ کرتا ہو اجیسا کہ بحرالرائق کے سیاقِ کلام سے ظاہر ہے شرح المنیہ کی عبارت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ملّا علی قاری کے رسالے میں ہے کہ جو امام مواضع اختلاف میں احتیاط اوررعایت کرتا ہو تو ہمارے اکثر مشائخ جوازِاقتداء کے قائل ہیں ورنہ اقتداء جائز نہیں اور معنی یہ ہےکہ رعایت کرنے والے کی اقتداء بلا کراہت جائز اور نہ رعایت کرنے والے کی اقتداء کراہت کے ساتھ جائز ہے اھ مختصرًا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع