30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرالمختار تکرہ خلف امرد[1]فی ردالمحتار الظاہر انھا تنزیہیۃ والظاھر ایضاکما قال الرحمتی ان المراد بہ الصبیح الوجہ لانہ محل الفتنۃ [2]۔ |
درالمختار میں ہے بے ریش لڑکے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ ردالمحتار میں ہے ظاہر یہی ہے کہ یہ مکروہِ تنزیہی ہے۔اور یہ بھی ظاہر ہے جیسے کہ شیخ رحمتی نے کہا کہ وہ لڑکا مراد ہے جو خوبصورت چہرے والا ہو کیونکہ وہ فتنے کا محل ہے۔(ت) |
دوسرے یہ کہ دوسرے صاحب قدرے ریش باقی رکھتے ہیں اگرچہ زیادہ کتروادیتے ہیں بخلاف صاحب اول کہ اصلًا نہیں رکھتے اس تقدیر پر دونوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور انھیں امام بنانا گناہ کہ داڑھی منڈانا اور کترواکر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق بالاعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسق معلن کی امامت ممنوع وگناہ ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ عن الحجۃ وحققناہ فی فتاوٰنا (غنیہ میں حجہ کے حوالے سے اس پر تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ت) اور مذاہب اربعہ حقّہ سے کسی دوسرے مذہب والے کے پیچھے حنفی کی اقتداء میں بھی چند صورتیں ہیں:
(١) اس خاص نماز میں معلوم ہو کہ امام نے کسی فرض یا شرطِ وضو یانماز یا امامت مطابق مذہب حنفی کی رعایت نہ کی وقد المسناببیان بعضہ مع مالہ وعلیہ فی فتاوٰنا (ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس پر کچھ تفصیل سے اعتاضات مع جوابات ذکر کئے ہیں۔ت)اس صورت میں اُس کے پیچھے حنفی کی نماز محض باطل ۔
(٢) خاص نماز کا حال معلوم نہ ہو مگر اس کی عادت معلوم ہے کہ غالبًا امورمذکورہ میں مذہب حنفی کی مراعات نہیں کرتا تواس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔
(٣) عادت بھی معلوم نہیں تو اس کی امامت مکروہ ہے اور ارجح یہ کہ اب یہ کراہت تحریمی نہیں۔
(٤) عادت یہ معلوم ہے کہ ہمیشہ مراعات کا التزام کرتا ہے تو صورت سوم سے حکم اخف ہے مگر ایك گُونہ کراہت سے ہنوز خالی نہیں۔
(٥) خاص اس نماز کا حال معلوم ہے کہ اس میںاس نے جمیع امور مذکورہ کی رعایت کی ہے تو اب عندالجمہور کراہت اصلًا نہیں اگرچہ پہلے عادت عدم مراعات رکھتا ہو پھر بھی افضل یہی ہے کہ مل سکے تو موافق المذہب کی اقتداء کرے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع