30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
صححہ فی متن الملتقی ھناك فقد اختلف التصحیح والاشتراط احوط و بہ جزم فی الفتح[1] ھناکمالا یخفی۔ |
امام شامی فرماتے ہیں کہ شارح نے یہاں اشباہ سے نقل کیا ہے کہ (تعیین شرط نہ ہونا)ناقابل فہم اور ہمارے علماء قاضی خان وغیرہ کی تصریحات کے خلاف ہے۔بلکہ شرط ہونا اصح ہے، میں کہتا ہوں متنِ ملتقی میں اس مقام پر اسکی تصحیح کی ہے تو اس کی تصحیح میں اختلاف واقع ہوا ہے مگر شرط ہونا احوط ہے اور اسی پر فتح القدیر میں یہاں جزم کیا ہے۔ (ت) |
اور اگر فائتہ ایك ہی ہے تو نیت فائتہ کرنے ہی میں تعیین یوم خود ہی آگئی۔
|
فی ردالمحتار عن الحلیہ ، لوکان فی ذمتہ ظہر واحد فائت فانہ یکفیہ ان ینوی ما فی ذمتہ من الظھر الفائت وان لم یعلم انہ من ای یوم٢[2] ۔ |
جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے ہے کہ اگر کسی شخص کے ذمے ایك ظہر کی نماز قضا لازم ہے تو اس کے لئے اتنی نیت کرلینا کافی ہے کہ وہ اپنی فوت شدہ ظہر ادا کر رہا ہے اگرچہ یہ نہ جانتا ہو کہ وہ کون سے دن کی فوت شدہ ہے(ت) |
بالجملہ نماز وقتی میں صور واقعہ معلومۃ الوقوع موقع خلاف و نزاع نہیں، خلافیہ علماء اُس صورت مفروضہ میں ہے کہ کوئی شخص نماز امروزہ میں تعیینِ نوعی تو کرلے اور تعیین شخصی سے اصلًا ذاہل وغافل ہو کہ بحالت شعور ، قصد صحیح تعیین شخصی کا ملزوم اور عدم لحاظ مفقود و معدو م اوربقصد خلاف، عدمِ لحاظ نہیں ،لحاظِ عدم ہے اور وہ بلاشبہ نافی نماز و منافی جواز، تو غفلت و بے خبری ایسی چاہیئے کہ سوال پر یہ تو بتادے کہ مثلًا ظہر پڑھتا ہوں اور بے تامل و فکر نہ بتاسکے کہ آج کی ظہر ایسی حالت میں اس سوال کا محل نہیں کہ مجھے نیت میں کیا بڑھانا چاہیے کہ وہ تو حال ذہول وعدم شعور میں ہے بلکہ بحث یہ ہوگی کہ ایسی نماز ہوگئی یا نہیں، اس میں تین صورتیں ہیں اگر وقت باقی ہے تو روایات مختلف تصحیحات مختلف کما بینہ فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ ردالمحتار اور دیگر معتمد کتب میں اس کا بیان ہے۔ت) غرض توسیع مسلم اور احتیاط اسلم ،یونہی اگر وقت جاتا رہااور اُسے معلوم نہیں اس صورت میں اختلاف تصحیح ہے۔
|
فی البحر الرائق شمل مااذانوی العصر بلا قید وفیہ خلاف ففی الظھیریۃ لونوی الظھرلایجوز و قیل یجوز وھو الصحیح ھذا |
البحر الرائق میں ہےکہ یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب کوئی نمازِ عصر کی نیت بغیر کسی قید کے کرے تو اس میں اختلاف ہے، ظہیر یہ میں ہے اگر کسی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع