30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علاوہ بریں جب آدمی کا حق مارا جاتا ہو اور وُہ بغیر کسی ایسے اظہار کے جوبظاہر خلاف واقع ہے حاصل نہ ہوسکتا ہو تو اپنے احیائے حق کے لئے ایسی بات کا بیان شرعًا جائز ہے اگر چہ سامع اُسے کذب پر محمول کرے۔درمختار میں ہے:
|
اکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ [1] الخ وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن الامام حجۃ الاسلام۔ |
اپنے حق کے حصول اور اپنے آپ سے ظلم کو دُور کرنے کے لئے کذب مباح ہے الخ اور اس کی پُوری تفصیل امام حجۃ الاسلام کی تبیین المحارم کے حوالے سے ردالمحتار میں ہے۔(ت) |
بالجملہ صورت مذکورہ میں صرف بیان مدعا علیہ کوئی چیز نہیں اگر کسی گواہ سے بھی ثابت ہو کہ زید نے اپنے دعوٰی یا تائید ِ دعوٰی میں کئی بات خلاف کہی تواس سے واقعی کاذب وفاسق ہونا ثابت نہیں ہوتا،ہاں اگر شہادتِ شرعیہ سے زید کا کذاب فاسق بے حرمت ہونا پایہ ثبوت کو پہنچے تو بے شك اُسے امام بنانا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا کما ھوحکم الفاسق(جیسا کہ فاسق کا حکم ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ نمبر ٦٢٣: از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی ٢٠ذیقعدہ ١٣١٧ھ
عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ ایك ہی مصلّے پر فرض نماز پڑھنا بایں صورت کہ خاوند امام ہو اور عورت مقتدی ،کیا حکم رکھتا ہے؟
الجواب:
اگر عورت اس قدر پیچھے کھڑی ہے کہ اس کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی نہیں تو اقتدا صحیح ہے اور دونوں کی نماز ہوجائے گی اور اگر برابر ہے کہ بیچ میں کوئی حائل ہے نہ کوئی اتنا فاصلہ جس میں ایك آدمی کھڑاہوسکے اور عورت کی ساق مرد کی ساق یا کسی عضو کے محاذی ہے تو اس صورت میں اگر مرد نے اُس کی امامت کی نیت نہ کی تو مرد کی نماز صحیح ہے اور عورت کی فاسد ،اور اگر مرد نے تحریمہ نیتِ امامتِ زن کی تھی تو دونوںکی گئی ۔فتاویٰ امام قاضی خان میں ہے:
|
المرأۃ اذاصلت مع زوجھا فی البیت ان کان قدماھا بحذاء قدم الزوج لاتجوز صلاتھما بالجماعۃ وان کان قدماھا |
کسی خاتون نے جب اپنے خاوند کے ساتھ گھر میں نماز ادا کی ہو اگر اس کے قدم خاوند کے قدم کے مقابل ہوں تو دونوں کی نماز باجماعت جائز نہ ہوگی اور اگر اس کے قدم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع