30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں ورنہ بے دھوئے خود اس کی اپنی نماز نہ ہوگی اور جبکہ وہ حالتِ معذوری میں ہے یعنی کوئی وقت کامل نماز کا ایساگزر گیا شروع سے ختم تك کہ اُسے وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی فرصت نہیں ملی اور جب سے برابر ہروقت نمازمیں یہ نجاست آتی رہتی ہے اگرچہ وقت میں ایك ہی بار تو وہ ایسی حالت میں امامت نہیں کرسکتا ،لوگ اگرآکر شامل ہوں جہر نہ کرے تکبیر آواز سے نہ کہے وہ لوگ خود الگ ہوجائیں گے۔اور اس پر بھی جُدانہ ہوں تو بعد سلام اطلاع کردے کہ میں معذور ہُوں میرے پیچھے نماز جائزنہیں تم اپنی پھر پڑھ لو۔
|
فی الدرالمختار ان سال علی ثوبہ فوق الدرھم جازلہ ان لا یغسلہ ان کان لوغسلہ تنجس قبل الفراغ منھا ای الصلاۃ والایتنجس قبل فراغہ فلا یجوز ترك غسلہ ھوالمختار للفتوی١[1]واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
دُرمختار میں ہے اگر معذور کے کپڑے پر درہم سے زیادہ نجاست بہہ گئی تو اس کے لئے اس کا نہ دھونا اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس کو دھوئے تو نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے اس کے نجس ہوجاتے ہیں اگر اس کے فارغ ہونے سے پہلے نجس نہ ہو تو اس کے لیے دھونے کو ترك کرنا جائز نہیں ۔فتوٰی کے لئے یہی قول مختارہے(ت) |
مسئلہ نمبر٦٢١: ازدلیرگنج پر گنہ جہاں آبادضلع پیلی بھیت مرسلہ خلیفہ الہٰی بخش ١٨رجب ١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص قواعدِ تجوید سے ناواقف ہو اُس کوامام کیاجائے یا نہیں؟ اور اگر کیا جائے توا س کے پیچھے قواعدداں کی نماز ہوگی یا نہیں؟اور عام لوگوں یعنی غیرقواعدداں کی نماز بھی اس کے پیچھے ہوگی یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ معنی میں فساد آتا ہے مثلًا حرف کی تبدیل جیسے ع ط ص ح ظ کی جگہ و ت س ہ ز پڑھناکہ لفظ مہمل رہ جائے یامعنی میں تغیر فاحش راہ پائے یاکھڑا پڑا کی بدتمیزی کہ حرکات بڑھ کر حروف مدہ ہوجائیں اور وہی قباحتیں لازم آئیں، جس طرح بعض جہال نستعین کو نستاعین پڑھتے ہیں کہ بے معنی یا لا اِلی اﷲ تحشرون بلام تاکید کو لالی اﷲ تحشرون بلائے نافیہ کہ تغیر معنی ہے تو ہمارے ائمہ متقدمین کے مذہب صحیح ومعتمد محققین پر مطلقًا خود اس کی نماز باطل ہے کما حققہ ورجححہ المحقق فی الفتح والحلبی فی الغنیۃ وغیرھما (محقق نے فتح میں اورحلبی نےغنیـہ میں اور دیگر لوگوں نے اپنی کتب میں اس کی تحقیق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع