30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بابرتی نے عنایہ شرح ہدایہ میں فرمایا:
|
اقول: الشرط المتقدم وھوان یعلم بقلبہ ای صلاۃ یصلی یحسم مادۃ ھذہ المقالات وغیرہا فان العمدۃ علیہ لحصول التمیز بہ وھو المقصود١[1] کما نقلہ فی ردالمحتار واقرہ ھھنا وفی منحۃ الخالق وایدہ العلامۃ اسمٰعیل مفتی دمشق کمافی المنحۃ۔ |
میں کہتا ہوں شرطِ مقدم یہ ہے کہ نمازی دل سے یہ جانتا ہو کہ وہ کون سی نماز ادا کر رہا ہے یہ شرط ان اعتراضات وغیرہ کی بنیاد کو ختم کر دیتی ہے کیونکہ حصولِ تمیز کے لئے نمازی پر قصد و نیت ضروری ہے اور یہی مقصود ہے اھ ردالمحتار نے یہاں اسے نقل کر کے مقررر کھا ہے اورمنحۃ الخا لق میں اسے نقل کیا ہے ، نیز اسکی تائید مفتی دمشق شیخ اسمٰعیل نے کی ،ملاحظہ ہو منحۃ الخالق(ت) |
البتہ تعدد فوائت خصوصًا کثرت کی حالت میں یہ صورت ضرور ہوسکتی بلکہ بہت عوام سے واقع ہوتی ہے کہ ظہر کی نیت کرلی اور یہ تعیین کچھ نہیں کہ کس دن تاریخ کی ظہر یہاں باوصف اختلاف تصحیح مذہب اصح واحوط یہی ہے کہ دن کی تخصیص نہ کی تو نماز ادا ہی نہ ہوگی مگر طول مدت یا کثرت عدد میں تعیین روز کہاں یاد رہتی ہے لہذا علماء نے اس کا سہل طریقہ یہ رکھا ہے کہ سب سے پہلی یا سب سے پچھلی ظہر یا عصر کی نیت کرتا رہے جب ایك پڑھ لے گا تو باقی میں جو سب سے پہلی یا پچھلی ہے دہ ادا ہوگی وعلی ھذاالقیاس آخر تك ۔
|
فی التنویر لابد من التعیین لفرض ولوقضاء قال فی الدرلکنہ یعین ظھر یوم کذا علی المعتمد والاسھل نیۃ اول ظھرعلیہ واٰخر ظہر وفی القھستانی عن المنیۃ لا یشترط ذلك فی الاصح وسیجی آخر الکتاب[2] قال الشامی ، نقل الشارح ھناك عن الاشباہ انہ مشکل و مخالف لماذکرہ اصحابنا کقاضی خان وغیرہ والاصح الاشتراط قلت وکذا |
تنویر الابصار میں ہے کہ گر فرض نماز میں تعیین ضروری ہے خواہ وہ قضا ہی کیوں نہ ہوں درمختار میں کہا معتمد قول کے مطابق تعیین یہ ہے کہ فلاں دن کی ظہر ادا کر رہا ہوں اس مسئلہ میں آسان طریقہ یہ ہے کہ یوں نیت کرلے کہ پہلی ظہر جو اس پر لازم ہے وہ پڑھتا ہے۔یا یہ کہ آخر ظہر جو اس پر لازم ہے وہ پڑھتا ہے ۔ قہستانی میں منیہ کے حوالے سے ہے اصح یہ ہے کہ یہ کہنا شرط نہیں ، اور عنقریب کتاب کے آخر میں اس کا ذکر آئے گا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع