30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٦١٧: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ایك مسجد کا امام ہے اور وہ کارہائے مندرجہ ذیل سے روزی پیدا کرتا ہے : مُردہ نہلانا اس کی اجرت لینا،سوم میں قرآن مجید پڑھنا اور ناخواندہ لوگوں سے قرآن مجید پڑھوانا اور اس کی اجرت لینا،مُردے کے کپڑے وغیرہ لینا اور فروخت کرنا،اور سود کھانا خفیہ طور سے۔اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز ؟ اور دوسرا شخص جس کو عام لوگ جانتے ہیں کہ اس کی روزی ناجائز ہے اُس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوُد لینا گناہ کبیرہ ہے، یوں ہی جس ناجائز طریقہ سے روزی حاصل کی جائے وہ یا تو سرے سے خود ہی کبیرہ ہوگا یا بعد عادت کے کبیرہ ہوجائے گا ۔ناخواندہ لوگوں سے پڑھواکر اُجرت لیتاہے کے معنی سائل نے یہ بیان کیا کہ بے پڑھوں کو بلالاتا ہے اور براہِ فریب اُن کی قرآن خوانی ظاہر کرکے اُجرت لیتا ہے یہ صورت خودکبیرہ کی ہے اور تلاوتِ قرآن کریم پر اُجرت لینا ہی ناجائز ہے کما حققہ السید المحقق الشامی فی ردالمحتار وشفاء العلیل(جیسا کہ سیّد محقق شامی نے ردالمحتاراورشفاء العلیل میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ت) اور مردے کو نہلانے یا اٹھانے یا قبر کھودنے کی اُجرت لینے میں دوصورتیں ہیں اگر یہ فعل اسی شخص پر موقوف نہ ہو اور لوگ بھی ہیں کہ یہ نہ کرے تو وہ کرسکتے ہیں جب تواُن پر اجرت لینی جائز ہے اوراگر خاص یہی شخص یا جنازہ اُٹھانے کو یہی دو چار اشخاص ہیں کہ یہ نہ کریں تو کام نہ ہوگا اُجرت لینی حرام ہے،
|
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل استاجر قوما یحملون جنازۃ اویغلسون میتا ان کان فی موضع لایجد من یغسلہ غیرھؤلاء فلا اجرلھم وان کان ثمۃ اناس فلھم الاجروحفرالحفار علی ھذا وفی موضع لااجرھم لواخذوا الاجرلایطیب لھم١[1]۔ |
ہندیہ میں خلاصہ سے ہے کہ ایك آدمی نے کچھ لوگوں کو جنازہ اُٹھانے یا میّت کو غسل دینے کے لئے کرایہ پر حاصل کیا اگر تو وُہ ایسی جگہ ہے جہاں ان کے علاوہ اور کوئی دوسراغسل دینے والا نہیں اور نہ ہی جنازہ اٹھانے والا کوئی ہے تو ان کے لئے کوئی کرایہ لینا روا نہیں ہے،اور اگر وہاں دوسرے لوگ ہیں تو پھر ان کے لئے کرایہ لینا جائز ہے ۔قبر کھودنے والے کا معاملہ بھی یہی ہے اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں کرایہ لینا ان کے لئے جائز نہ تھا اور انہوں نے کرایہ لے لیا تو یہ ان کے لئے اچھاکام نہیں ہے ۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع