30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آکر دین و ایمان گنواکر حکّام پر جبرواکراہ کا طوفان اٹھا کر بحیلہ کاذبہ اکراہ چاہیں مسجد ڈھائیں چاہے خدا ورسول کو گالیاں سنائیں چاہے دو کے آتے تین گائیں وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪[1] (عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت) ایسے لوگ نہ عنداﷲ معذور ہوسکتے ہیں نہ عندالحکام مجبور ؎
مبادا دل آں فرومایہ شاد
کہ ازبہر دنیا دہد دیں بباد
(اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہوجو دنیا کی خاطر دین کو ہوا کے حوالے کردیتا ہے۔ت)
خرد مند انصاف پسند حاکموں کی نگاہ میں بھی دین فروش نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے کہ جس نے ذراسی خوشامد کے لئے دین جیسی عزیز چیز کوخیرباد کہا اس سے جو پاجائے تھوڑا ہے،جس نے ادنٰی طمع کے واسطے حاکم حقیقی جل جلالہ، سے روگردانی کی اس حاکم دنیوی کے ساتھ خیر خواہی کی توقع کیا ہے خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾٢[2] (دنیاوآخرت کا گھاٹا یہی صریح نقصان ہے۔ت) اور مسئلہ اکراہ یوں بے قید الفاظ جو خدا اور رسول کی جانب منہ بھر کر اس شخص نے کہے وہ بھی اسکے سوئے ادب وقلّتِ دین پر دال ہیں شرع مطہر میں خوفِ جان کے وقت بھی حکم عزیمت یہی ہے کہ کسی طرح اصلًا کلمہ کفرزبان سے نہ نکالے اور رخصت یہ کہ حتی الامکان توریہ کر کے پہلو دار بات سے جان بچائیں ،اگر توریہ پر قادر تھا اور اسے چھوڑ کر صریح کلمہ کفر بولا قطعًایقینا کافر ہوجائے گا ،دُرمختار میں ہے:
|
ان اکرہ علی الکفر باﷲ تعالٰی اوبسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بقطع اوقتل رخص لہ ان یظھر ما امر بہ علی لسانہ ویوری وقلبہ مطمئن بالایمان ،وان خطر ببالہ التوریۃ ولم یورکفرو بانت دیانۃ وقضاء نوازل وجلالیۃ ویوجر لوصبر لترکہ الاجراء المحرم [3] الخ باختصار۔ |
اگر کسی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ معاذاﷲ کفر کرے یانبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو معاذ اﷲ گالی دے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا یااس کا کوئی عضوکاٹ لیا جائے گاتو اسے اجازت ہے کہ زبان پر ایسے کلمات کو جاری کردے جن کا مطالبہ کیا گیا ہو لیکن توریہ (یعنی حتٰی الامکان پہلو دار بات کے ذریعے جان بچائے) سے کام لے اور اس کادل ایمان پر مطمئن اور قائم رہے اور اگر اس کے دل میں توریہ کا خیال آیا مگر اس نے توریہ نہ کیا تو وہ کافر ہوجائے گا اور اس کی عورت قضاءً و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع