30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الجیران ان یجعلوا ذلك المسجد لہ لید خلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ماھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایسعھم ذلك ١[1]۔ |
پڑوسی یہ کہتے ہوں کہ مسجد کو ان میں سے کوئی ایك حاصل کرے اور اپنے گھر میں شامل کرے اور اس کے عوض متبادل بہتر جگہ مسجد کے لئے خریدے تاکہ اہل محلہ مسجد میں کشادگی حاصل کر سکیں۔امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔(ت) |
اُس جلسہ میں بعض وہ شریك تھے جو بنارس کے مولوی صاحب کہلاتے ہیں انھوں نے معلوم نہیں کس غرض سے مسجد مذکور کے کھودنے کے واسطے رائے دی اور دستخط بھی کئے بلکہ مولوی صاحب موصوف سے لوگوں نے دریافت کیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا کھودنے کے واسطے رائے نہ دیتا تو کیا بیڑیاں پیروں میں ڈالتا ،حالت اکراہ میں تو دو خدا اور جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دینا جائز ہیں۔حالانکہ کسی قسم کا اکراہ حاکمِ ضلع کی جانب سے نہ تھا صرف اہل ِاسلام سے امر مذکور الصدر میں رائے طلب کی گئی تھی ،مولوی صاحب نے اکراہ کو قُطِعَ اَوْقُتِلَ کےساتھ مقید نہیں کیا اور نہ توریہ کو کہا جس کی قید کتبِ فقہ میں ہے۔الغرض ایسی ایسی باتیں مولوی صاحب نے بیان کیں جس سے عوام کے گمراہ ہوجانے کاخیال ہے۔ حنفیوں پر اکثر طعنے بھی مخالفین کے ہونے لگے کہ تمھارے یہاں ایسے ایسے گندے مسائل ہیں۔مولوی صاحب کو امام نماز کا ازروئے شرع ومصلحت بناناچاہئے یا نہیں؟بینوابالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
الجواب:
یہ شخص بنص قطعی قرآن شریف فاسق وفاجر ہے ۔قال اﷲتعالٰی :
|
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنۡ یُّذْکَرَ فِیۡہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیۡ خَرَابِہَاؕ [2]
|
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو بازرکھے خدا کی مسجدوں کو اُن میں نامِ خدا لئے جانے سے اور کوشش کرے ان کی ویرانی میں۔ |
عذر اکراہ محض جھوٹا ہے،جوکمیٹیاں رائے زنی کے لئے مقرر کی جاتی ہیں ہر گز حکّام کی طرف سے گلے میں چھری نہیں رکھی جاتی کہ اگر تم نے یوُں رائے نہ دی تو قتل کر دئیے جاؤ گے یا زبان کاٹ لی جائے گی یا ہاتھ قلم کر دئیے جائیں گے، بلکہ رائے زنی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہر شخص آزادانہ اپنی رائے ظاہر کرے۔ہاں دنیا پرست جیفہ خور خوشامد میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع