30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتی ہو تو کراہت ان لوگوں پر ہوئی جو ناپسند کررہے ہیں اور امام اور امامت دونوں اس (کراہت) سے بری ہوںگے،باقی تینوں کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ بحر میں بیان کیا ،اوردرمختار میں اسے پسند کیا ہے ،اور اختیاروغیرہ میں اس پر نص موجود ہے جیسا گزرا، اگرچہ نہرمیں اس کی مخالفت ہے مگر نص کے مقابل کسی کا قول نہیں چل سکتا ور اﷲ تعالٰی حقیقتِ حال سے زیادہ آگاہ ہے(ت)
|
جواب سوال چہارم:اگر امام الحی ازوجوہ خلل خالی است ہموں اولی است مگر درحضرت سلطان مسلمین و قاضی شرع ووالی اسلام کہ ایناں رابروتقدیم ست فی الدرالمختار،اعلم ان صاحب البیت ومثلہ امام المسجد الراتب اولی بالامامۃ من غیرہ مطلقاالاان یکون معہ سلطان اوقاض فیقدم علیہ لعموم ولایتھماوصرح الحدادی بتقدیم الوالی علی الراتب[1] اھ قال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی قال فی البنایۃ ھذا فی الزمن الماضی لان الولاۃ کانو علماء وغالبھم کانواصلحاء وامافی زماننا فاکثرالولاۃ ظلمۃ جھلۃ [2] اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول: نعم ولکن الفتنۃ اکبرمن القتل بببلی ان رضوابتقدیم غیرھم فلا کلام وان کانو علماء صلحاء کما اذا اذن صاحب البیت لغیرہ واﷲ تعالٰی اعلم اھ ماکتبت علیہ |
جواب سوال چہارم اگر محلہ کا امام اسباب و وجوہِ خلل سے خالی ہو تو اسی کاامام بننا بہتر ہے مگر اس صورت میں جب مسلمانوں کا حاکم ،قاضی شرع اوروالیِ اسلام موجود ہوں کیونکہ ان حضرات کو امام ِ محلہ پر تقدیم کاحق حاصل ہے۔دُرمختار میں ہے،واضح رہے کہ صاحب ِ خانہ اور اسی طرح مسجد کا مقررہ امام امامت کے لئے ہرحال میں دوسرے لوگوں سے اولٰی مگر اس صورت میں کہ جب صاحب خانہ یا امامِ معیّن کے ساتھ سلطان یاقاضی ہوتو بادشاہ اور قاضی کے تصرف وولایت کے عام ہونے کی وجہ سے ان کو مقدم کیا جائیگا اور حدادی نے والی کو امام معیّن پر مقدم کرنے کی تصریح کی ہے اھ۔اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں فرمایا بنایہ میں ہے یہ حکم زمانہ ماضی میں تھاکیونکہ حکمران (اصحابِ اختیار ) علماء اور صلحاء ہوتے تھے،ہمارے دور میں والی اکثر ظالم اور جاہل ہیں اھ مجھے یاد آرہا ہے اس پر میں نے حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول:(میں کہتا ہوں) یہ ٹھیك ہے لیکن فتنہ قتل سے بڑھ کر ہے،ہاں اگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع